تو مُردہ تھا۔ زندہ خدا کی پیشگوئی کا رعب اس کو ہلاک کر گیا تھا گو بظاہر جیتا نظر آتا تھا۔ مگر اس میں جان نہ تھی۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر یہ سب لوگ اس کو ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیتے تب بھی وہ کبھی نالش نہ کرتا۔ اور اگر میں ایک کروڑ روپیہ بھی اس کو دیتا تو کبھی قسم نہ کھاتا۔ اس کا دل میرا قائل ہوگیا تھا اور زبان پر انکار تھا۔ اور میں خوب جانتا ہوں کہ اس معاملہ میں آتھم سے زیادہ میری سچائی کا اور کوئی گواہ نہ تھا۔ غرض پادریوں نے آتھم کے معاملہ میں حق پوشی کر کے بہت شوخی کی اور امرتسر سے شروع کر کے پنجاب اور ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں ناچتے پھرے اور بہروپ نکالے اور ایسا شور و غوغا کیا کہ ابتداء عملداری انگریزی سے آج تک اس کی کوئی نظیر نہیں مل سکتی۔ اور اس جھوٹی خوشی میں جس کے مقابل انہیں کا کانشنس ان کے منہ پر طمانچے مارتا تھا بہت بُرا نمونہ دکھایا۔ اور گندی گالیوں سے بھرے ہوئے میری طرف خط بھیجے اور وہ شور کیا اور وہ شوخی ظاہر کی کہ گویا ہزاروں فتح ان کے نصیب ہوگئیں اور ہزاروں اشتہار چھپوائے مگر پھر بھی اتنے اور اس قدر جوش کے ساتھ آتھم کا مردہ جنبش نہ کر سکا اور اس جھوٹی فتح کی خوشی میں اس نے کوئی دو ورقہ رسالہ بھی شائع نہ کیا۔ بلکہ ایک اخبار میں شائع کر دیا کہ یہ تمام فتنہ اور شور و غوغا جو عیسائیوں کی طرف سے ہوا یہ میری خلاف مرضی ہوا میں ان کے ساتھ متفق نہیں۔ اور گو سچی گواہی کو چھپایا مگر مخالفانہ تیزی اور چالاکی سے بھی چپ رہا یہاں تک کہ الہام الٰہی کے موافق ہمارے آخرؔ ی اشتہار سے سات۷ مہینہ کے اندر فوت ہوگیا۔ غرض بڑا بھاری فتنہ یہ تھا جس میں دین اسلام پر ٹھٹھا کیا گیا۔ اور جس میں بدبخت مولویوں اور دوسرے جاہل مسلمانوں نے پادریوں کی ہاں کے ساتھ ہاں ملا کر اپنا مُنہ کالا کیا۔ اور ایک الہامی پیشگوئی کی ناحق تکذیب کی اور اسلام کی سخت توہین کے مرتکب ہوئے۔ اب صفحہ ۲۴۲ براہین احمدیہ غور سے پڑھو اور انصاف کرو کہ کیسی صفائی سے اس فتنہ کی اس میں خبر ہے اور کیسا صاف صاف لکھا ہے کہ اول عیسائی مکر کریں گے اور پھر صدق ظاہر ہو جائے گا۔ دوسرا فتنہ جو دوسرے درجہ پر تھا محمد حسین بٹالوی کی تکفیر کا فتنہ تھا۔ اس میں بھی عوام کا شور وغوغا پادریوں کے شور وغور سے کچھ کم نہ تھا۔ اسی فتنہ کی تقریب پر بمقام دہلی سات یا آٹھ ہزار