والی تھی۔ اور انہیں کماحقہ اس بات کا علم تھا کہ اس نے اپنی حرکات سے خوف ظاہر کیا استقامت ظاہر نہیں کی اور پہلی وضع متعصبانہ کو ایسا بدل دیا کہ اثناء میعاد میں دین اسلام کی مخالفت میں کبھی دو سطر کا مضمون بھی کسی اخبار میں نہیں چھپوایا اور نہ کوئی رسالہ نکالا جیسا کہ اس کی قدیم سے عادت تھی اور نہ کسی مسلمان سے بحث کی بلکہ اس طرح پر دنوں کو گذارا جیسا کہ کسی نے خاموشی کا روزہ رکھا ہوا ہوتا ہے۔ اور پھر طرفہ یہ کہ چار ہزار روپیہ دینے پر بھی قسم نہ کھائی۔ اور مارٹن کلارک سر پیٹ پیٹ کر رہ گیا مگر نالش نہ کی اور تعلیم یافتہ سانپ وغیرہ الزاموں کو ثابت نہ کر سکا۔ ان تمام وجوہات سے پادری صاحبوں کو یقینی علم تھا کہ وہ بزدل اور ڈرپوک نکلا۔ اور میعاد کے بعد بھی وہ اپنا قصہ یاد کر کے رویا لیکن پادریوں نے خدا تعالیٰ کا خوف نہ کیا اور امرتسر کے بازاروں میں اس کو لئے پھرے کہ دیکھو آتھم صاحب زندہ موجود ہے اور پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ بہت سے پلید طبع مولوی جو نام کے مسلمان تھے اور چند نالائق اور دنیا پرست اخبار والے ان کے ساتھ ہوگئے اور لعن طعن اور تکذیب اور تبراؔ بازی میں ان کے بھائی بن بیٹھے اور بڑے جوش سے اسلام کی خفت کرائی۔ پھر کیا تھا عیسائیوں کو اور بھی موقعہ ہاتھ لگا۔ پس انہوں نے پشاور سے لیکر الہ آباد اور بمبئی اور کلکتہ اور دور دور کے شہروں تک نہایت شوخی سے ناچنا شروع کیا اور دین اسلام پر ٹھٹھے کئے اور یہ سب مولوی یہودی صفت اور اخباروں والے ان کے ساتھ خوش خوش اور ہاتھ میں ہاتھ ملائے ہوئے تھے۔ ان پر آسمان سے خدا کی *** برس رہی تھی مگر ان کو نظر نہیں آتی تھی۔ اس وقت وہ غضب الٰہی کے نیچے تھے۔ مگر نفسانی جوش کے گردوغبار سے اندھے کی طرح ہو رہے تھے۔ یہ لوگ اس وقت شیطان کی آواز کے مصدق تھے اور آسمان کی آواز کی کچھ پرواہ نہ تھی۔ انہیں دنوں میں ایک بے نصیب نالائق مسلمان ایڈیٹر نے لاہور سے اپنے اخبار میں آتھم کو مخاطب کر کے اور میرا نام لے کر لکھا کہ ’’آتھم صاحب خلق اللہ پر احسان کریں گے اگر نالش کر کے اس شخص کو سزا دلائیں گے‘‘۔ اس نادان نے اپنے اِن پُرجوش لفظوں سے مُردہ کو بلانا چاہا۔ مگر چونکہ وہ مر چکا تھا اس لئے ہل نہ سکا۔ اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں خود چاہتا تھا کہ اگر آتھم نے قسم نہیں کھائی تو بارے نالش ہی کرتا۔ مگر آتھم