کے ذکر کے بعد پھر اس الہام کو پڑھے گا الفتنۃ ھٰھُنا فاصبر کما صبر اولواالعزم تو ان تین فتنوں کے تصور سے جو صفحہ ۲۴۱۔ اور صفحہ ۵۱۱۔ اور صفحہ ۵۵۷ براہین احمدیہ میں اس وقت سے سترہ برس پہلے لکھی ہوئی ہیں طبعاً اس کے دل میں ایک سوال پیدا ہوگا کہ یہ تین فتنے کیسے ہیں جن میں سے ایک عیسائیوں سے تعلق رکھتا ہے اور ایک کسی منصوبہ باز مسلمان سے اور ایک کھلے کھلے نشان کے ظہور کے وقت سے۔ اور پھر جب واقعات کی تلاش میں پڑے گا تو وہ تین بھاری بلوے اس کی نظر کے سامنے آ جائیں گے جو ہر ایک ان میں سے فتنہ عظیم کہلانے کا مستحق ہے۔ تب خدا کا عمیق علم دیکھ کر ضرور سجدہ کرے گا جس نے اس وقت یہ خبریں دیں جبکہ ان تینوں فتنوں کا نام و نشان نہ تھا اگر یہ تینوں فتنے چیستاں کے طور پر کسی واقعات کے جاننے والے کے سامنے پیش کئے جائیں تو فیؔ الفور وہ جواب دے گا کہ ایک فتنہ آتھم کی پیشگوئی کے متعلق کا ہے جو عیسائیوں اور ان کے حامی بخیل مسلمانوں سے ظہور میں آیا یعنی ان مسلمانوں سے جن کا نام اس پیشگوئی میں یہود رکھا ہے۔ اور دوسرا فتنہ محمد حسین بٹالوی کی تکفیر کا فتنہ ہے۔ اور تیسرا وہ فتنہ جو ہندوؤں کی طرف سے نشان الٰہی کے ظہور کے بعد وقوع میں آیا۔ یہ تین فتنے ہیں جو پُرشور و بلوہ کی طرح ظہور میں آئے جن کی خدانے سترہ ۷۱ بر س پہلے خبر دیدی تھی!!! اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ان تینوں فتنوں میں سے کوئی فتنہ بھی قومی شور و غوغا سے خالی نہ تھا اور ہر ایک میں انتہائی درجہ کا جوش بھرا ہوا تھا۔۔ اور ہر ایک میں غیر معمولی غل غپاڑہ اٹھا تھا۔ چنانچہ عیسائیوں کا فتنہ اُس وقت وقوع میں آیا تھا جب آتھم میعاد پیشگوئی کے بعد زندہ پایا گیا۔ پادریوں کو خوب معلوم تھا کہ الہامی پیشگوئی میں صریح شرط تھی کہ آتھم رجوع کی حالت میں جو ایک دلی فعل ہے میعاد میں مرنے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے اور یہ بھی وہ خوب جانتے تھے کہ آتھم پیشگوئی کی ہیبت سے ضرور ڈرتا رہا۔ اور وہ ایام میعاد میں عیسائیت کے تعصّب پر قائم نہیں رہ سکا۔ اور ان کی مجلسوں سے بھاگ کر فیروزپور کے گوشہ خلوت میں جا بیٹھا۔ اور نیز ان کو خوب معلوم تھا کہ ایک دفعہ بیماری کے وقت میں اس نے یہ بھی کہا کہ ’’میں پکڑا گیا‘‘ اور خوب جانتے تھے کہ فطرتاً اس کی روح ڈرنے