میعاد کے اندر بے چینی میں نہیں رہا جو ہاویہ کا مصداق ہے؟ کیا کہہ سکتے ہو کہ وہ آرام اور تسلی سے رہا؟ کیا یہ سچ نہیں کہ وہ میعاد سے خارج ہو کر اور عیسائیت پر اصرار کر کے ہمارے آخری اشتہار سے سات۷ ماہ تک مرگیا؟ کیا دکھلا سکتے ہو کہ اب تک وہ کہیں زندہ بیٹھا ہے؟ کیا یہ ایسی باتیں ہیں جو کسی کو سمجھ نہیں آ سکتیں؟ سو انکار پر اصرار اگر بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ دنیا کسی پہلو سے خوش نہیں ہو سکتی۔ آتھم نے نرمی اور شرم اختیار کی اور اس کا دل خوف سے بھرگیا۔ سو خدا نے الہام کی شرط کے موافق خوف کے ایام میں اس کو مہلت دے دی مگر دنیا کے لوگوں نے پھر یہی کہا کہ ’’آتھمؔ کیوں نہیں مرا‘‘۔ اور لیکھرام نے کچھ خوف نہ کیا اور شوخی دکھلائی اس لئے خدا تعالیٰ نے ٹھیک ٹھیک میعاد کے اندر اس کو ہلاک کیا اور دنیا کے لوگوں نے کہا کہ ’’کیوں لیکھرام مرگیا ضرور کوئی خفیہ سازش ہوگی‘‘۔ سو وہ جو میعاد کے اندر مرنے سے بچایا گیا اس پر بھی مخالفوں کا شور اٹھا کہ کیوں بچایا گیا اور جو میعاد کے اندر پکڑا گیا اس پر بھی شور اٹھا کہ کیوں پکڑا گیا۔
اور جیسا کہ لیکھرام کی نسبت سترہ برس پہلے براہین احمدیہ میں خبر موجود ہے ایسا ہی آتھم کی نسبت بھی براہین احمدیہ میں خبر موجود ہے جو شخص براہین احمدیہ کا صفحہ ۲۴۱ غور سے پڑھے گا اس کو اس بات کو ماننا پڑے گا کہ درحقیقت براہین احمدیہ میں اس فتنہ نصاریٰ کی جو آتھم کی میعاد گذرنے کے بعد ظہور میں آیا خبر دی گئی ہے۔ ان باتوں پر غور کرنے سے ایک ایماندار کا ایمان قوت پاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے مخالف دن بدن بے ایمانی میں بڑھتے جاتے ہیں نہ معلوم ان کی قسمت میں کیا لکھا ہے۔ مولویوں کی حالت پر تو بہت ہی افسوس ہے کہ ان کو آثار نبویہ کے ذریعہ سے آتھم کی پیشگوئی کی نسبت خبر دی گئی تھی مگر انہوں نے اس خبر کی بھی کچھ پرواہ نہیں کی۔ ایک دانشمند انسان جب براہین احمدیہ کو کھول کر صفحہ ۲۴۱ میں نصاریٰ کے ذکر اور ان کے مکر اور حق پوشی کی پیشگوئی کے بعد پھر اس الہام کو پڑھے گا الفتنۃ ھٰھُنا فاصبر کما صبر اولوالعزم۔ اور پھر آگے چل کر جب پانسو گیارہ صفحہ پر ایک مفتری اور بیباک مسلمان کے ذکر کے بعد پھر اس الہام کو پڑھے گا الفتنۃ
ھٰھُنا فاصبر کما صبر اولوالعزم اور پھر آگے چل کر جب صفحہ ۵۵۷ میں ایک چمکتے ہوئے نشان