صفائی سے پوری ہوگئی۔ آتھم مذکور کی نسبت پیشگوئی کے الہام میں صاف طور پر یہ شرط تھی کہ اگر حق کی طرف رجوع کرے گا تو موت میں تاخیر ڈال دی جائے گی چنانچہ اس نے پیشگوئی کی میعاد میں اپنے اقوال اور افعال سے حق کی طرف رجوع کرنا ثابت کر دکھلایا۔ اس نے نہ صرف خوف کا اقرار کیا بلکہ وہ پیشگوئی کی میعاد میں اپنے گوشہ خلوت میں مردہ کی طرح پڑا رہا*۔اس عرصہ میں ایک مرتبہ اس کو بخار آیا تو وہ روتا ہوا بولا کہ ’’ہائےؔ میں پکڑا گیا‘‘۔ اس نے میعاد کے اندر تمام مباحثات چھوڑ دئیے گویا اس کے مُنہ میں زبان نہ تھی میعاد کے دنوں میں اس نے اپنی عجیب تبدیلی دکھلائی کہ گویا یہ وہ آتھم ہی نہیں ہے۔ پس اگرچہ یہ تبدیلی اور ہر اس اور غم کہ اس کے چہرہ سے نمایاں تھا رجوع کیلئے کافی دلیل تھی لیکن اس سے بڑھ کر اس نے یہ بھی ثبوت دے دیا کہ میں نے اس کو کہا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تو میعاد کے اندر ضرور ڈرتا رہا اور عیسائیت کے بیباکانہ طرز سے ضرور دستکش ہوکر ہیبت اسلام سے متاثر ہوگیا تھا جو رجوع کے اقسام میں سے ایک قسم ہے اور اگر یہ بات صحیح نہیں ہے تو تجھے قسم کھانا چاہئیے جس پر ہم چار ہزار روپیہ بلاتوقف تجھے دیدیں گے لیکن اس نے قسم نہ کھائی اور نہ نالش سے اپنے ان جھوٹے الزاموں کو ثابت کیا جو اپنے خوف کی بنا ٹھہرائی تھی یعنی یہ الزام کہ گویا ہم نے ایک سانپ تعلیم یافتہ اس کی طرف چھوڑا تھا اور بعض مسلح سپاہی بھیجے تھے۔ پس اس کی اس کارروائی سے صاف طور پر ثابت ہوگیا کہ ضرور اس نے رجوع کیا۔ اور الہامی عبارت میں یہ بھی تھا کہ اگر رجوع پر قائم نہ رہے گا اور حق کو چھپائے گا تو جلدمر جائے گا۔ چنانچہ وہ حق کا اخفا کر کے ہمارے آخری اشتہار سے سات۷ ماہ کے اندر فوت ہوگیا۔ الہام کے موافق اس کا مرنا بھی صاف گواہی دیتا ہے کہ وہ صرف رجوع کے باعث سے کچھ دنوں تک زندہ رہ سکا تھا۔ یہ کیسی صاف بات ہے کہ الہام الٰہی میں آتھم کیلئے ایک زندہ رہنے کا پہلو تھا اور ایک مرنے کا پہلو۔ سو خدا نے پیشگوئی کے الفاظ کے مطابق دونوں پہلوؤں کو پورا کر کے دکھلا دیا۔ کیا زندہ رہنے کا پہلو جو شرط الہامی ہے پیچھے سے بنا دیا ہے اور پہلے الہام میں درج نہیں تھا؟ اگر ایسی ہی سمجھ ناقص ہے تو ایک موٹے طور پر سمجھ لو کہ الہام کے لفظوں میں ہاویہ کا ذکر تھا اور ہاویہ کا کمال موت سے تعبیر کیا گیا تھا۔ اب سچ کہو کہ کیا آتھم پیشگوئی کی آتھم پیشگوئی کی میعاد میں جو پندرہ مہینے تھی اپنی پہلی عادتیں یعنی مباحثات اور مناظرات سے ایسا دستکش ہو گیا کہ اس کی نظیر اس کی تمام پہلی زندگی میں نہیں پائی جاتی۔ اس نے اس میعاد میں بقدر ایک سطر بھی کوئی مخالفانہ مضمون نہیں نکالا۔ پس یہ نہایت صاف اور واضح ثبوت اس بات پر ہے کہ وہ ایام پیشگوئی میں اپنی قدیم عادتوں سے رکا رہا اور وہی رجوع تھا۔ منہ