اور پھر اسی الہام کی تائید میں براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۰۶ میں ایک الہام ہے جس میں ہندؔ وؤں اور عیسائیوں کے لئے ایک کھلے کھلے نشان کا وعدہ کیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے لم یکن الذین کفروا من اھل الکتاب والمشرکین منفکین حتی تاتیھم البینۃ و کان کیدھم عظیما۔ یعنی مشرک اور عیسائی بجز ایک کھلے کھلے نشان کے اپنی تکذیب سے باز آنے والے نہیں تھے اور ان کا مکر بہت بڑا تھا اور پھر فرمایا کہ اگر خدا ایسا نہ کرتا تو دنیا میں اندھیر پڑجاتا۔ یہ وہی کھلا کھلا نشان ہے جس کو دوسری جگہ چمکار کے لفظ سے تعبیر کیا ہے جو لیکھرام کی موت کا نشان ہے اور صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے نہایت صفائی سے اس نشان کو ظاہر کیا ہے کیونکہ اس پیشگوئی میں میعاد بتلائی گئی تھی۔ عید کا دوسرا دن بتلایا گیا تھا۔ اور موت بذریعہ قتل بتلائی گئی تھی۔ اور کشفی عبارت صاف بتلاتی تھی کہ موت اتوار کو ہوگی اور رات کے وقت ہوگی۔ سو یہ ساری باتیں اسی طرح ظہور میں آگئیں جیسا کہ پہلے سے کہی گئی تھیں۔ اور ہندوؤں کا سازش کا الزام اور قتل کرنے کے ارادہ کا الزام اس پیشگوئی کی صفائی پر کچھ غبار نہیں ڈال سکتا کیونکہ ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ براہین احمدیہ میں یہ پیشگوئی موجود ہے کہ اس نشان کے ظہور کے وقت ایک فتنہ ہوگا اور وہ فتنہ اس فتنہ سے مشابہ ہوگا کہ جو حضرت عیسیٰ کی نسبت یہود نے اٹھایا تھا۔ یعنی یہ کہ گورنمنٹ کے ذریعہ سے مصلوب کروانے کی کوشش یا خود قتل کرنے کا منصوبہ کرنا۔
اور اس جگہ یاد رہے کہ جو کچھ ہندو اور ہمارے دوسرے مخالف اس پیشگوئی پر گردوغبار ڈالنا چاہتے ہیں ایسا کبھی نہیں ہوگا کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے اس لئے خدا تعالیٰ اس کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ بلکہ وہ روزبروز اس کی صفائی ظاہر کرے گا اور جیسے جیسے لوگوں کو یہ پیشگوئی سمجھ آتی جائے گی ویسے ویسے اس کی طرف کھنچے جائیں گے۔ کیا اس پیشگوئی کی عظمت کیلئے یہ کافی نہیں کہ علاوہ ان تمام تصریحات کے جو اس پیشگوئی میں موجود ہیں براہین احمدیہ بھی سترہ ۷۱ برس پہلے اس واقعہ سے اس پیشگوئی کی خبر دی گئی ہے۔
پندرھویں پیشگوئی ڈپٹی عبد اللہ آتھم کی نسبت پیشگوئی ہے جو نہایت