کھل جائے گا اور سچا پیغمبر *** نہیں ہو سکتا۔ پس اس طرح پر ان کا جھوٹا ہونا دلوں پر جم جائے گا اور ایسی ذلّت کے ساتھ زندگی کا خاتمہ ہو کر پھر ان کا کوئی بھی نام نہیں لے گا۔ اسی ذلت کی موت کا بھاری غم تھا جس نے تمام رات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دعا کرنے کا جوش دیا اور عین صلیب کے وقت ’’ایلی ایلی لما سبقتنی‘‘ ا ن کے منہ سے کہلایا۔ ورنہ ایک نبی کو اپنی موت کا کیا غم ہو سکتا ہے۔ یہ بہادر قوم تو موت کے غم کو پیروں کے نیچے کچلتی ہے۔ ایسا ڈر نبی کے دل کی طرف کیونکر منسوب کر سکیں بلکہ *** کے فتنہ کا ڈر تھا جو ان کے دل کو کھا گیا تھا۔ آخر اس راستباز کو خدا نے بچالیا۔ اور براہین احمدیہ کی اس پیشگوئی میں یہ اشارہ ہے کہ یہی منصوبہ تمہارے لئے ایک قوم کرے گی۔ چنانچہ ان دنوں میں لیکھرام کی موت کے بعد ہنود نے یہی کیا اور کر رہے ہیں لیکن انہوں نے میری تکذیب کیلئے یہ دوسرا پہلو سوچا ہے کہ اگر ممکن ہو تو اس کو بھی عید کے قریب قریب قتل کر دیں اور اس طرح پر الٰہی پیشگوئی کو برباد کر کے دلوں سے اسلامی عظمت کو مٹا دیں اور لوگوں کو اس طرف توجہ دلاویں کہ جیسا کہ لیکھرام ایک پیش از وقت پیشگوئی کے موافق قتل ہوگیا ایسا ہی یہ شخص بھی پیش از وقت ہماری پیشگوئی کے موافق قتل ہوگیا۔ پس اگر وہ خدا کا الہام ہو سکتا ہے تو ہماری بات کو بھی خدا کا الہام کہنا چاہئے۔ سو اس طرح پر دنیا میں ایک گڑبڑ پڑ جائے گا اور لوگ ہندوؤں کے ایک مردہ کے مقابل مسلمانوں کے ایک مردہ کو دیکھ کر اس نتیجہ تک پہنچ جائیں گے کہ دونوں انسانی منصوبے ہیں۔ اور اس طرح پر بآسانی اس شخص کا کاذب ہونا ثابت ہو جائے گا۔ سو یہود اور ہنود تکذیب کی مدعا میں واحد ہیں صرف جدا جدا دو پہلو ان کو سوجھے۔ پس خدا نے اس وقت سے سترہ برس پہلے سمجھا دیا کہ جیسا کہ یہود اپنے ارادہ میں ناکام رہے ہنود بھی اپنے ارادہ میں ناکام رہیں گے اور صاف لفظوں میں سمجھا دیا کہ یہ منصوبہ قتل اس وقت ہوگا کہ جب ایک چمکتا ہوا نشان حملہ کے رنگ میں ظہور میں آئے گا اور اس حملہ کے بعد ایک فتنہ ہوگا اسی فتنہ کے مشابہ جو مسیح کی نسبت ہوا تھا۔ اور پھر اسی الہام کے ساتھ عربی میں الہام ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا مشکلات کے پہاڑ دور کر دے گا اور یہ سب رحمان کی قوت سے ہوگا۔