کہ یہود نے اس ارداہ سے ان کو قتل کرنا چاہا تھا کہ ان کا کاذب ہونا ثابت کریں اور انہوں نے یہ پہلو ہاتھ میں لیا تھا کہ ہم صلیب کے ذریعہ سے اس کو قتل کریں گے اور مصلوب *** ہوتا ہے اور *** کا مفہوم یہ ہے کہ انسان بے ایمان اور خدا سے برگشتہ اور دور اور مہجور ہو۔ اور اس طرح پر ان کا کاذب ہونا ثابت ہو جائے گا۔ اور خدا نے ان کو تسلی دی کہ تو ایسی موت سے نہیں مرے گا جس سے یہ نتیجہ نکلے کہ تو *** اور خدا سے دور اور مہجور ہے بلکہ میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا یعنی زیادہ سے زیادہ تیرا قرب ثابت کروں گا *اور یہود اپنے اس ارادہ میں نامراد رہیں گے۔ پس لفظ رفع کے مفہوم میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے آنے کی بھی ایک پیشگوئی مخفی تھی کیونکہ جس سچائی کے زیادہ ظاہر ہونے کا وعدہ تھا وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ظہور سے وقوع میں آئی۔ اور خدا تعالیٰ نے اپنے ایک سچے نبی کو بغیر شہادت کے نہ چھوڑا۔
غرض یہی پیشگوئی اس عاجزکی نسبت براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے موجود ہے اور آج سے سترہ برس پہلے شائع ہو چکی۔ سو یہ الہام وہی شان نزول اپنے ساتھ رکھتا ہے جو حضرت مسیح کے متعلق ہونے کی حالت میں اس کے ساتھ تھی یعنی جیسا کہ اس وقت میں یہ وحی اسی غرض سے حضرت عیسیٰ پر نازل ہوئی تھی کہ ان کو پیش از وقت خبر دی جائے کہ تیری نسبت قتل کے منصوبے ہوں گے اور میں تجھ کو بچا لوں گا۔ اسی غرض سے یہ الہام بھی ہے۔ اگر فرق ہے تو صرف اتنا ہے کہ اس وقت قتل کے منصوؔ بے کرنے والے یہود تھے اور اب ہنود ہیں۔ اور یہود نے حضرت مسیح کی تکذیب کے لئے یہ پہلو سوچا تھا کہ ان کو مصلوب کر کے توریت کے رو سے ان کا *** ہونا
یہ وعدہ اس عاجز کو بھی دیا گیا کہ میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ چنانچہ اسی آیت کو بطور الہام اس عاجز کے حق میں بھی نازل فرمایا ہے جس سے ہمارے علماء رفع عنصری مراد لیتے ہیں اور میں دلائل سے ثابت کر چکا ہوں کہ یہ آیت میرے حق میں بھی الہام ہوئی ہے۔ تو اب کیا میری نسبت بھی یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ میں معہ جسم عنصری آسمان کی طرف اٹھا یا جاؤں گا۔ اگر کہو کہ تمہارا الہام ثابت نہیں تو یہ عذر فضول ہو گا کیونکہ جس لطیف پیشگوئی پر یہ الہام مشتمل ہے وہ ظہور میں آگئی ہے پس اسی دلیل سے الہام کا سچا ہونا ثابت ہو گیا۔ منہ