(یہ وہی فتنہ سازش قتل ہے جس کی مناسبت سے الہام مذکورہ میں اس عاجز کو یا عیسیٰ کر کے پکارا گیا تھا یعنی قتل کرنے یا مصلوب کرانے کے ارادہ کا فتنہ) اس الہام میں پہلے اس عاجز کا نام عیسیٰ رکھا گیا اور پھر وعدہ کیا گیا ہے کہ میں تجھے وفات دوں گا اور وہی آیت جو
قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ کی وفات کے وعدہ کےؔ متعلق ہے اس عاجز کے حق میں
کی اطلاع ہوئی۔ اس وقت خطوط کی نقل کی اس جگہ ضرورت نہیں وہ سب میرے پاس محفوظ ہیں۔ لیکن ہندو اخبار میں سے کچھ بطور نمونہ نقل کرتا ہوں تا معلوم ہو کہ وہ ابتلاء جو یہود کی شرارتوں سے حضرت عیسیٰ کو پیش آیا تھا وہی مجھ کو پیش آگیا۔ اور اس فتنہ کے لفظ سے جو الہام الفتنۃ ھٰھنا میں پایا جاتا ہے وہی ابتلا مراد ہے۔ اور اسی بناء پر معہ بعض دوسرے وجوہ کے اس عاجز کا نام عیسیٰ رکھا گیا۔ یہود کا فتنہ دو حصہ پر مشتمل تھا ایک وہ حصہ تھا جو حضرت عیسیٰ کے قتل کیلئے ان کے اپنے منصوبے تھے۔ اور دوسرا وہ حصہ تھا کہ جو وہ گورنمنٹ رومیہ کو حضرت عیسیٰ کی گرفتاری اور قتل کیلئے افروختہ کرتے تھے۔ سو ان دنوں میں بھی وہی معاملہ پیش آیا۔ صرف فرق اتنا رہا کہ وہاں یہود تھے اور یہاں ہنود۔ سو پہلا حصہ جو قتل کے لئے خانگی سازشیں ہیں ان کا نمونہ ایم آر بشیشر داس کے اس مضمون سے معلوم ہوتا ہے جو اس نے اخبار آفتاب ہند مطبوعہ ۱۸؍ مارچ ۱۸۹۷ء کے صفحہ ۵ پہلے کالم میں چھپوایا ہے۔ جس کا عنوان یہ ہے ’’مرزا قادیانی خبردار‘‘ اور پھر بعد اس کے لکھا ہے کہ ’’مرزا قادیانی بھی امروز فردا کا مہمان ہے بکرے کی ماں کب تک خیر منا سکتی ہے۔ آج کل ہنود کے خیالات مرزا قادیانی کی نسبت بہت بگڑے ہوئے ہیں پس مرزا قادیانی کو خبردار رہنا چاہئے کہ وہ بھی بکر عید کی قربانی نہ ہو جاوے‘‘ اور پھر اخبار رہبر ہند لاہور ۱۵؍مارچ ۱۸۹۷ء میں صفحہ ۱۴ پہلے کالم میں لکھا ہے ’’کہتے ہیں کہ ہندو قادیان والے کو قتل کرائیں گے‘‘۔
اور دوسرا حصہ جو گورنمنٹ کے افروختہ کرنے کے متعلق ہے اس کا اخبارات مفصلہ ذیل میں
جو ہندوؤں کی طرف سے نکلے ہیں بیان ہے۔ چنانچہ اخبار پنجاب سماچار ۲۷؍مارچ ۱۸۹۷ ء
جو ایک ہندو پرچہ لاہور سے نکلتا ہے اس طرح اپنے صفحہ پانچ میں گورنمنٹ کو افروختہ کرتا
ہے۔’’سب سے اول اس خیال کو (یعنی سازش قتل کے خیال کو) پیدا کرنے والی مرزا غلام احمد قادیانی