میں مشتبہ نہ ہو جائے۔ غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کو ایسے اضطراب کے زمانہ میں تسلی دی تھی کہ جب یہودی ان کے مصلوب کرنے کی فکر میں تھے۔ اب جو یہ آیت براہین احمدیہ میں اس عاجز پر بطور الہام نازل ہوئی تو اس میں ایک باریک اشارہ یہ ہے کہ اس عاجز کو بھی ایسا واقعہ پیش آئے گا کہ لوگ قتل کرنے یا مصلوب کرانے کے منصوبے کریں گے تا یہ عاجز جرائم پیشہ کی سزا پا کر حق مشتبہ ہو جائے۔ سو اس آیت میں اللہ تعالیٰ اس عاجز کا نام عیسیٰ رکھ کر اور وفات دینے کا ذکر کر کے ایما فرماتا ہے کہ یہ منصوبے پیش نہیں جائیں گے اور میں ان کی شرارتوں سے محافظ ہوںؔ گا۔ اور اسی الہام کے آگے جو صفحہ ۵۵۷ میں الہام ہے اس میں ظاہر فرمایا گیا کہ ایسا کب ہوگا اور اس دن کا نشان کیا ہے۔ یعنی ایسے منصوبے جو قتل کے لئے کئے جائیں گے وہ کب اور کس وقت میں ہوں گے اور کن امور کا ان سے پہلے ظاہر ہونا ضروری ہے۔ سو اسی الہام کے بعد میں جو الہام ہے اس میں اس کی طرف اشارہ کیا گیاہے اور وہ یہ ہے میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا (یہ رافعک الی کی تفسیر ہے) دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ قتل کی سازشوں کا وقت وہ ہوگا کہ جب ایک چمکدار نشان حملہ کی صورت پر ظاہر ہوگا۔ چنانچہ اس الہام کے بعد جو عربی میں الہام ہے وہ بھی اس مضمون قتل کے فتنہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ یہ ہے الفتنۃ ھٰھنا فاصبر کما صبر اولوالعزم۔ فلمّا تجلّٰی ربّہ للجبل جعلہ دکّا۔ قوّۃ الرحمٰن لعبید اللّٰہ الصّمد۔ مقام لا تترقی العبد فیہ بسعی الاعمال۔ ترجمہ یہ ہے کہ جب یہ چمکتا ہوا نشان ظاہر ہوگا تو اسوقت ایک فتنہ* برپا ہوگا۔ حاشیہ: آریوں اور ہندوؤں نے جس قدر جا بجا خفیہ جلسے اور پوشیدہ مشورے اس عاجز کے قتل کے لئے کئے ہیں ان کی نسبت اب تک میرے پاس پچاس کے قریب خط پہنچے ہیں بعض ان میں سے گمنام ہندوؤں کے خط ہیں اور بعض معزّز مسلمانوں کے خط ہیں جن کو ان مشوروں