الہام ہوئی یعنی یاعیسٰی انّی متوفّیک ورافعک الیّ۔ اور جیسا کہ ابھی میں لکھ
چکا ہوں اس بشارت کی حضرت عیسیٰ کے حق میں بھی ضرورت پڑی تھی کہ اس وقت
کی پیشگوئی ہے‘‘ پھر اسی اخبار کے صفحہ۶ میں لکھا ہے کہ ’’مرزا صاحب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پنڈت جی کی موت دوسری۲ شوال کو ہونی تھی‘‘۔ یعنی پیشگوئی میں جو دوسری شوال کی طرف اشارہ تھا اور ویسا ہی وقوع میں آیا تو بس یہ کافی دلیل ہے کہ پیشگوئی کرنے والے کی سازش سے یہ قتل ظہور میں آیا۔ پھر یہی اخبار ۱۰۔ مارچ ۱۸۹۷ء کے پرچہ میں لکھتا ہے۔ ’’ایک حضرت نے (یعنی اس عاجز نے) اپنی مصنفہ کتاب موعود مسیحی میں یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ پنڈت لیکھرام چھ سال کے عرصہ میں عید کے دن نہایت دردناک حالت میں مرے گا‘‘۔اب یہ پرچہ عید کے دن کا نام لے کر گورنمنٹ کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ ایسا پتہ دینا انسان کے منصوبہ پر دلالت کرتا ہے مگر عید کا دن بیان کرنے میں غلطی کرتا ہے۔ الہام الٰہی میں دوسری شوال کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے*۔پھر اسیؔ پرچہ کے صفحہ ۲ میں لکھتا ہے ’’قتل کے لئے آدمی مقرر کیا گیا۔ ادھر سے مصنف موعود مسیحی کی پیشگوئی بھی قریب تھی کیونکہ غالباً ۱۸۹۷ ء چھٹا سال تھا اور پانچ مارچ سنہ حال آخری عید چھٹے سال کی تھی‘‘۔ اس میں جس قدر غلطیاں ہیں حاجت بیان نہیں۔ بہرحال اس تقریر سے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ منصوبہ مقرر کیا گیا تھا کہ عید پر یا عید کے قریب قتل کیا جائے۔ پھر اسی خیال کو قوت دینے کے لئے اسی اخبار میں لکھتا ہے کہ ’’یہ قتل کئی ایک اشخاص کی مدت کی سوچی اور سمجھی ہوئی اور پختہ سازش کا نتیجہ ہے جس کی تجاویز امرتسر اور گورداسپورہ کے نزدیک اورادھر دہلی اور بمبئی کے اردگرد مدت سے ہو رہی تھیں۔ کیا یہ غیر اغلب ہے کہ اس سازش کا جنم ان اشخاص سے ہوا ہو کہ جو علانیہ بذریعہ تحریر و تقریر کہا کرتے تھے کہ پنڈت کو مار ڈالیں گے اور مزید براں یہ کہ پنڈت اس عرصہ میں اور فلاں دن ایک دردناک حالت میں مرے گا۔ کیا آریہ دھرم کے مخالف چند ایک کتب کے ایک خاص مصنّف کو
خدا تعالیٰ نے الہام میں لیکھرام کا نام عجل جسد لہ خوار رکھا ہے یعنی گوسالہ سامری۔ اس میں بھی یہی اشارہ ہے کہ عید کے دنوں میں وہ ہلاک ہو گا کیونکہ توریت میں اب تک لکھا ہوا موجود ہے کہ سامری کا گوسالہ بھی عید کے دن نیست و نابود کیا گیا تھااور عید کا دوسرا دن بھی عید کے حکم میں ہے۔ منہ