اس کے ہاتھ سے دین اسلام کو تمام دینوں پر غلبہ بخشے اور ابتداء میں ضرور ہے کہ اس مامور اور اس کی جماعت پر ظلم ہو لیکن آخر میں فتح ہوگی اور یہ دین اس مامور کے ذریعہ سے تمام ادیان پر غالب آ جائے گا اور دوسری تمام ملتیں بیّنہ کے ساتھ ہلاک ہوجائیں گی۔ دیکھو! یہ کس قدر عظیم الشان پیشگوئی ہے اور یہ وہی پیشگوئی ہے جو ابتداء سے اکثر علماء کہتے آئے ہیں کہ مسیح موعود کے حق میں ہے اور اس کے وقت میں پوری ہوگی اور براہین احمدیہ میں سترہ۷۱ برس سے مسیح موعود کے دعوے سے پہلے درج ہے تا خدا ان لوگوں کو شرمندہ کرے کہ جو اس عاجز کے دعویٰ کو انسان کا افتراء خیال کرتے ہیں۔ براہین خود گواہی دیتی ہے کہ اس وقت اس عاجز کو اپنی نسبت مسیح موعود ہونے کا خیال بھی نہیںؔ تھا اور پرانے عقیدہ پر نظر تھی۔ لیکن خدا کے الہام نے اسی وقت گواہی دی تھی کہ تو مسیح موعود ہے۔ کیونکہ جو کچھ آثار نبویہ نے مسیح کے حق میں فرمایا تھا الہام الٰہی نے اس عاجز پر جما دیا تھا۔ یہاں تک کہ اسی براہین احمدیہ میں نام بھی عیسیٰ رکھ دیا۔ چنانچہ صفحہ ۵۵۶ براہین احمدیہ میں یہ الہام موجود ہے یا عیسٰی انّی متوفّیک و رافعک الیّ و جاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامہ ثلّۃ من الاولین و ثلّۃ من الاٰخرین۔ یعنی اے عیسیٰ میں تجھے طبعی وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ اور تیرے تابعین کو ان لوگوں پر غلبہ بخشوں گا جو مخالف ہوں گے اور تیرے تابعین دو قسم کے ہوں گے پہلا گروہ اور پچھلا گروہ۔ یہ آیت حضرت مسیح پر اس وقت نازل ہوئی تھی کہ جب ان کی جان یہودیوں کے منصوبوں سے نہایت گھبراہٹ میں تھی اور یہودی اپنی خباثت سے ان کے مصلوب کرنے کی فکر میں تھے تا مجرمانہ موت کا داغ ان پر لگ کر توریت کی ایک آیت کے موافق ان کو ملعون ٹھہراویں کیونکہ توریت میں لکھا تھا کہ جو لکڑی پر لٹکایا جائے وہ *** ہے۔ چونکہ صلیب کو جرائم پیشہ سے قدیم طریق سزا دہی کی وجہ سے ایک مناسبت پیدا ہوگئی تھی اور ہر ایک خونی اور نہایت درجہ کا بدکار صلیب کے ذریعہ سے سزا پاتا تھا اس لئے خدا کی تقدیر نے راستبازوں پر صلیب کو حرام کر دیا تھا تا پاک کو پلید سے مشابہت پیدا نہ ہو۔ پس یہ عجیب بات ہے کہ کوئی نبی مصلوب نہیں ہوا تا ان کی سچائی عوام کی نظر