مقابلہ کوئی مخالف نہیں کر سکا اور خدا نے تمام معاندین کو ذلیل کیا۔ قرآن کے اعجازی معارف جو غیر محدود ہیں ان پر ایک یہ بھی دلیل ہے کہ ظاہر اور معمولی معنے تو ہر ایک مومن اور فاسق اور مسلم اور کافر کو معلوم ہیں اور کوئی وجہ نہیں جو معلوم نہ ہوں۔ تو پھر نبیوں اور عارفوں کو ان پر کیا فوقیت ہوئی۔ اور پھر اس کے کیا معنے ہوئے کہ 33 ۱؂ تیرہویں پیشگوئی وہ ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں لکھی گئی ہے اور وہ یہ ہے الا ؔ ان نصر اللّٰہ قریب۔ یاتیک من کل فج عمیق۔ یاتون من کل فجّ عمیق۔ یعنی خدا کی مدد تجھے دور دور سے پہنچے گی اور لوگ دور دور سے تیرے پاس آئیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور ہمارے مخالف بھی جانتے ہیں کہ ہندوستان کے کناروں تک ہمارے سلسلہ کے مددگار موجود ہیں۔ اور پشاور سے لے کر بمبئی اور مدراس اور کلکتہ تک لوگ دور دور کا سفر اٹھا کر قادیان میں پہنچتے ہیں اور یہ پیشگوئی سترہ سال کی ہے اور اس وقت لکھی گئی تھی کہ جب اس رجوع خلائق کا نام و نشان نہ تھا۔ اب سوچنا چاہئے کہ کیا یہ انسان کا فعل ہے؟ کیا انسان اس بات پر قادر ہے کہ ایسی پوشیدہ اور نہاں در نہاں باتیں کہ ایک عمر کے بعد ظاہر ہونے والی تھیں پہلے سے بتلادے؟! چودھویں پیشگوئی جو براہین احمدیہ کے اسی صفحہ ۲۳۹ میں ہے یہ ہے۔ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ*لا مبدل لکلمات اللّٰہ ظلموا و ان اللّٰہ علٰی نصرھم لقدیر۔ یعنی خدا وہ ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ ان پر ظلم ہوا اور خدا ان کی مدد کرے گا۔ یہ آیات قرآنی الہامی پیرایہ میں اس عاجز کے حق میں ہیں اور رسول سے مراد مامور اور فرستادہ ہے جو دین اسلام کی تائید کے لئے ظاہر ہوا۔ اس پیشگوئی کا ماحصل یہ ہے کہ خدا نے جو اس مامور کو مبعوث فرمایا ہے یہ اس لئے فرمایا کہ تا حدیثوں میں جو یہ پیشگوئی ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں تمام ملتیں ہلاک ہو جائیں گی مگر اسلام۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بجز اسلام کوئی مذہب باقی نہیں رہے گاکیونکہ ایسا ہونا تو قرآن کے منافی ہے ان آیتوں میں غور کرو جہاں لکھا ہے کہ یہود اور نصاریٰ قیامت تک رہیں گے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ تمام مذاہب مردہ اور ذلیل ہو جائیں گے اور اسلام کے مقابل پر مر جائیں گے مگر اسلام کہ وہ اپنی روشنی اور زندگی اور غلبہ ظاہر کرے گا۔ منہ