فرماتا ہے 3۱؂ یعنی اس نبی کے اور شاگرد بھی ہیں جو ہنوز ظاہر نہیں ہوئے اور آخری زمانہ میں ان کا ظہور ہوگا۔ یہ آیت اسی عاجز کی طرف اشارہ تھا کیونکہ جیسا کہ ابھی الہام میں ذکر ہو چکا ہے یہ عاجز روحانی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے شاگردوں میں سے ہے۔ اور یہ پیشگوئی جو قرآنی تعلیم کی طرف اشارہ فرماتی ہے اسی کی تصدیق کیلئے کتاب کرامات الصادقین لکھیؔ گئی تھی جس کی طرف کسی مخالف نے رخ نہیں کیا۔ اور مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مجھے قرآن کے حقائق اور معارف کے سمجھنے میں ہر ایک روح پر غلبہ دیا گیا ہے۔ اور اگر کوئی مولوی مخالف میرے مقابل پر آتا جیسا کہ میں نے قرآنی تفسیر کے لئے بار بار ان کو بلایا تو خدا اس کو ذلیل اور شرمندہ کرتا۔ سو فہم قرآن جو مجھ کو عطا کیا گیا یہ اللہ جلّ شانہٗ کا ایک نشان ہے۔ میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ عنقریب دنیا دیکھے گی کہ میں اس بیان میں سچا ہوں۔ اور مولویوں کا یہ کہنا کہ قرآن کے معنے اسی قدر درست ہیں جو احادیث صحیحہ سے نکل سکتے ہیں اور اس سے بڑھ کر بیان کرنا معصیت ہے چہ جائیکہ موجب کمال سمجھا جائے۔ یہ سراسر خیالات باطلہ ہیں۔ ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن اصلاح کامل اور تزکیہ اتم اور اکمل کے لئے آیا ہے اور وہ خود دعویٰ کرتا ہے کہ تمام کامل سچائیاں اس کے اندر ہیں جیسا کہ فرماتا ہے 3۲؂ تو اس صورت میں ضرور ہے کہ جہاں تک سلسلہ معارف اور علوم الٰہیہ کا ممتد ہو سکے وہاں تک قرآنی تعلیم کا بھی دامن پہنچا ہوا ہو۔ اور یہ بات صرف میں نہیں کہتا بلکہ قرآن خود اس صفت کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور اپنا نام اکمل الکتب رکھتا ہے پس ظاہر ہے کہ اگر معارف الٰہیہ کے بارے میں کوئی حالت منتظرہ باقی ہوتی جس کا قرآن شریف نے ذکر نہیں کیا تو قرآن شریف کا حق نہیں تھا کہ وہ اپنا نام اکمل الکتب رکھتا۔ حدیثوں کو ہم اس سے زیادہ درجہ نہیں دے سکتے کہ وہ بعض مقامات میں بطور تفصیل اجمالات قرآنی ہیں۔ سخت جاہل اور نا اہل وہ اشخاص ہیں کہ جو قرآن شریف کی تعریف اس طور سے نہیں کرتے جو قرآن شریف میں موجود ہے بلکہ اس کو معمولی اور کم درجہ پر لانے کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔ غرض ایک پیشگوئی یہ بھی ہے جو جناب الٰہی کی طرف سے مجھ کو عطا ہوئی جس کا ۱؂ الجمعۃ:۴ ۲؂ البیّنۃ:۴