الا قول البشر و اعانہ علیہ قوم آخرون۔ قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین۔ ھذا من رحمۃ ربک یتم نعمتہ علیک لیکون آیۃ للمومنین۔ یعنی مخالف کہیں گے کہ یہ تو انسان کا قوؔ ل ہے اور اور لوگوں نے اس کی مدد کی ہے۔ کہہ اس پر دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو یعنی مقابلہ کر کے دکھلاؤ۔ بلکہ یہ خدا کی رحمت سے ہے۔ تا وہ اپنی نعمت تیرے پر پوری کرے اور تا مومنوں کیلئے نشان ہو۔ یعنی تیری سچائی پر یہ ایک نشان ہوگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔*اس عرصہ میں بہت سی عمدہ عمدہ کتابیں زبان عربی میں بالتزام محاسن ادب و بلاغت و فصاحت اس عاجز نے لکھیں اور مخالفین کو ان کے مقابلہ کیلئے ترغیب دلائی یہاں تک کہ پانچ ہزار روپیہ تک انعام دینا کیا اگر وہ نظیر بنا سکیں۔ لیکن وہ بمقابل ان کتابوں کے کچھ بھی لکھ نہ سکے سو اگر یہ خدا تعالیٰ کا فعل نہ ہوتا تو صدہا کتابیں مقابلہ پر لکھی جاتیں۔ خصوصاً اس حالت میں کہ جبکہ اپنے صدق و کذب کا مدار انہیں پر رکھا گیا تھا اور صاف لفظوں میں کہہ دیا گیا تھا کہ اگر وہ اس نشان کو بالمقابل کسی تالیف کے پیش کرنے سے توڑ سکیں تو ہمارا دعویٰ جھوٹا ٹھہرے گا۔ لیکن وہ لوگ مقابلہ سے بالکل عاجز رہے۔ اور ایسا ہی وہ پادری صاحبان جو ادنیٰ ادنیٰ جاہل مرتد کا نام مولوی رکھ دیتے ہیں اس مقابلہ اور معارضہ سے ایسے عاجز ہوئے جو اس طرف انہوں نے منہ بھی نہیں کیا۔ اور اس پیشگوئی میں کمال یہ ہے کہ یہ ان عربی کتابوں کے وجود سے سولہ سترہ برس پہلے لکھی گئی۔ کیا انسان ایسا کر سکتا ہے؟!!
بارھویں پیشگوئی جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۳۸ اور ۲۳۹ میں لکھی ہے علم قرآن ہے اس پیشگوئی کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تجھ کو علم قرآن دیا گیا ہے ایسا علم جو باطل کو نیست کرے گا۔ اور اسی پیشگوئی میں فرمایا کہ دو۲ انسان ہیں جن کو بہت ہی برکت دی گئی۔ ایک وہ معلم جس کا نام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم ہے اور ایک یہ متعلم یعنی اس کتاب
کا لکھنے والا۔ اور یہ اس آیت کی طرف بھی اشارہ ہے جو قرآن شریف میں اللہ جلّ شانہٗ
اس پیشگوئی کا مؤید براہین احمدیہ کا وہ الہام ہے جہاں لکھا ہے یا احمد فاضت الرحمۃ علی شفتیک یعنی اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی ہے یعنی فصاحت بلاغت۔ منہ