چھٹی پیشگوئی شریف کے بارے میں جو میرا تیسرا لڑکا ہے کی گئی تھی۔ اور رسالہ نورالحق میں پیش از وقت خوب شائع ہوگئی تھی۔ چنانچہ اس کے موافق لڑکا پیدا ہوا جو اب خدا کے فضل سے چند روز تک دوسرے سال کو ختم کرنے والا ہے۔ ساتویں پیشگوئی اشتہار ۱۸۸۶ء میں دلیپ سنگھ کے بارے میں تھی جو وہ قصد پنجاب سے ناکام رہے گا۔ اور صدہا ہندو اور مسلمانوں کو عام جلسوں میں یہ پیشگوئی سنا دی گئی تھی۔ آٹھویں پیشگوئی جلسہ مذاہب کے نتیجہ کی نسبت تھی کہ اس میں میرا مضمون غالب رہے گا۔ اور یہ اشتہارات لاہور اور دوسرے مقامات میں پیش از وقت ہزاروں ہندو مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے گئے تھے۔ اب سول ملٹری کو پوچھو اور آبزرور سے سوال کرو اور مشیر ہند اور وزیر ہند اور پیسہ اخبار اور صادق الاخبار اور سراج الاخبار اور مخبر دکن کو ذرا غور سے پڑھو تا معلوم ہو کہ کس زور سے الہام الٰہی نے اپنی سچائی ظاہر کی۔ نویں پیشگوئی قادیان کے ایک ہندو بشمبرداس نام کے ایک فوجداری مقدمہ کے متعلق تھی۔ یعنی بشمبرداس بقیدؔ ایک سال مقید ہوگیا تھا۔ اور اس کے بھائی شرمپت نام نے جو سرگرم آریہ ہے مجھ سے دعا کی التجا کی تھی اور نیز یہ پوچھا تھا کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ میں نے دعا کی اور کشفی نظر سے میں نے دیکھا کہ میں اس دفتر میں گیا ہوں جہاں اس کی قید کی مثل تھی۔ میں نے اس مثل کو کھولا اور برس کا لفظ کاٹ کر اس کی جگہ چھ۶ مہینے لکھ دیا اور پھر مجھے الہام الٰہی سے بتلایا گیا کہ مثل چیف کورٹ سے واپس آئے گی اور برس کی جگہ چھ۶ مہینے رہ جائے گی لیکن بری نہیں ہوگا۔ چنانچہ میں نے یہ تمام کشفی واقعات شرمپت آریہ کو جو اب تک زندہ موجود ہے نہایت صفائی سے بتلا دئیے۔ اور جب میں نے بتلایا اور بعینہٖ وہ باتیں ظہور میں آگئیں تو اس نے میری طرف لکھا کہ آپ خدا کے نیک بندے ہو اس لئے اس نے آپ پر غیب کی باتیں ظاہر کر دیں۔ پھر میں نے براہینؔ احمدیہ میں یہ تمام الہام نوٹ: پنڈت لیکھرام کا اس طرز سے مارا جانا آریہ صاحبوں کو ایک سبق دیتا ہے اور وہ یہ کہ آئندہ کسی نو مسلم کے شدھ کرنے کے لئے کوشش نہ کریں۔ اگر کوئی اسلام میں داخل ہوتا ہے تو اس کو ہونے دیں