بتاؤ کہ اس کی موت میں میری طرف سے کس کے ساتھ سازش ہوئی تھی۔ کیا تپ محرقہ کے ساتھ؟!
دوسری پیشگوئی شیخ مہر علی رئیس ہوشیارپور کی مصیبت کے بارے میں تھی جو اس پر ناحق کے خون کا الزام لگایا گیا تھا۔ شیخ مذکور ہوشیارپور میں زندہ موجود ہے اس کو پوچھو کہ کیا اس مقدمہ کے آثار ظاہر ہونے سے پہلے میں نے اپنے خدا سے خبر پاکر اطلاع اس کو دی ہے یا نہیں؟
تیسری پیشگوئی سردار محمد حیات خان جج کی نسبت اس وقت کی گئی تھی جبکہ سردار مذکور ایک ناحق کے الزام میں ماخوذ ہوگیا تھا۔ اب پوچھنا چاہئے کہ کیا درحقیقت کوئی ایسی پیشگوئی نامبردہ کی مخلصی کے بارے میں پیش از وقت کی گئی تھی یا اب بنائی گئی ہے اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس پیشگوئی کا براہین میں بھی ذکر ہے۔
چوتھی پیشگوئی سید احمد خان کے سی ایس آئی کی نسبت خدا تعالیٰ سے الہام پاکر اشتہار یکم فروری ۱۸۸۶ء میں کی گئی تھی کہ ان کو کوئی سخت صدمہ پہنچنے والا ہے۔ اب سید احمد خان صاحب کو پوچھنا چاہئے کہ اس پیشگوئی کے بعد آپ کو کوئی ایسا سخت صدمہ پہنچا ہے یا نہیں جو معمولی ہم و غم نہ ہو بلکہ وہ امر ہو جو جان کو زیر و زبر کرنے والا ہو۔
پانچویں پیشگوئی میں نے اپنے لڑکے محمود کی پیدائش کی نسبت کی تھی کہ وہ اب پیدا ہوگا اور اس کا نام محمود رکھا جائے گا۔ اور اس پیشگوئی کی اشاعت کیلئے سبز ورق کے اشتہار شائع کئے گئے تھے جو اب تک موجود ہیں اور ہزاروں آدمیوں میں تقسیم ہوئے تھے۔ چنانچہ وہ لڑکا پیشگوئی کی میعاد میں پیدا ہوا اور اب نویں سال میں ہے*۔
بعض جاہل محض جہالت کی وجہ سے یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ جب پہلے لڑکے کا اشتہار دیا تھا اس وقت لڑکی کیوں پیدا ہوئی۔ مگر وہ خوب جانتے ہیں کہ اس اعتراض میں وہ سراسر خیانت کر رہے ہیں۔ اگر وہ سچے ہیں تو ہمیں دکھلاویں کہ پہلے اشتہار میں یہ لکھا تھا کہ پہلے ہی حمل میں بلاواسطہ لڑکا پیدا ہو جائے گا اور اگر پیدا ہونے کے لئے کوئی وقت اس اشتہار میں بتلایا نہیں گیا تھا تو کیا خدا کو اختیار نہیں تھا کہ جس وقت چاہتا اپنے وعدہ کو پورا کرتا۔ ہاں سبز اشتہار میں صریح لفظوں میں بلا توقف لڑکا پیدا ہونے کا وعدہ تھا۔ سو محمود پیدا ہو گیا ۔ کس قدر یہ پیشگوئی عظیم الشان ہے اگر خدا کا خوف ہے تو پاک دل کے ساتھ سوچو! منہ