اور کشف شائع کر دیا۔ یہ شخص شرمپت نہایت متعصب آریہ ہے جس کو میرے خیال میں آخر شدھ ہونے والے کو دیکھ لیا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا اور دوسرے اس واقعہ سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ آئندہ یہ خواہشیں نہ کریں کہ کوئی دوسرا لیکھرام یعنی بدزبانیوں میں اس کا ثانی تلاش کرنا چاہئے۔ لیکن اگر فی الواقعہ وہ بات صحیح ہے جو پیسہ اخبار اور سفیر میں لکھی گئی ہے یعنی یہ کہ اس کے قتل کا سبب صرف بدکاری ہے اور یہ کام کسی غیرت مند لڑکی کے باپ یا خاوند کا ہے جیسا کہ بقول پیسہ اخبار کثرت رائے اسی طرف ہے تو آئندہ نیک چلن واعظ تلاش کرنا چاہئے! تعجب کی بات ہے کہ جس حالت میں بموجب بیان پیسہ اخبار کے زیادہ مشہور روایت یہی ہے کہ واردات قتل کا موجب کوئی ناجائز تعلق ہے تو کیوں اس طرف تحقیقات کیلئے توجہ نہیں کی جاتی اور کیوں ایسے ہندوؤں کے اظہار نہیں لئے جاتے جن کے منہ سے یہ باتیں نکلیں اور کیا بعید ہے کہ وہی بات ہو کہ ڈھنڈورا شہر میں لڑکا بغل میں۔ منہ بعض صاحب عیسائیوں میں سے اعتراض کرتے ہیں کہ اگرچہ لیکھرام کی نسبت پیشگوئی پوری ہوگئی مگر ہندوؤں نے اس کو مرنے کے بعد ذلت کی نظر سے نہیں دیکھا۔۔ ایسا عذر ایک عیسائی کے منہ سے نکلنا نہایت افسوس کی بات ہے۔ بھلا منصف بتلاویں کہ جب ہم نے پیشگوئی کے پورا ہونے کو اسلام کی سچائی کا ایک معیار ٹھہرایا تھا اور خدا نے لیکھرام کو مار کر مسلمانوں کی ہندوؤں پر ڈگری کر دی تو اس حالت میں نہ صرف لیکھرام بلکہ بحیثیت مذہبی اس تمام فرقہ کی عزت میں فرق آگیا۔ رہی لاش کی عزت تو لاش کا ڈاکٹر کے ہاتھ سے چیرا جانا کیا یہ عزت کی بات ہے اور چال چلن کی عزت کا یہ حال ہے کہ پیسہ اخبار ۱۳؍ مارچ ۱۸۹۷ء میں لکھا ہے کہ ’’اس شخص کے مارے جانے کی مشہور روایت یہ ہے کہ یہ شخص کسی عورت سے ناجائز تعلق رکھتا تھا اور یہی عام طور پر کہا جاتا اور یقین کیا جاتا ہے‘‘۔ فقط۔ پس اس سے زیادہ ذلت کا اور کیا نمونہ ہوگا کہ جان بھی گئی اور اکثر شہر کے لوگ اس کی وجہ بدکاری ٹھہراتے ہیں۔ منہ ایک نشان عقلمندوں کیلئے یہ ہے کہ شیخ نجفی نے چالیس دقیقہ میں نشان دکھلانے کا وعدہ کیا تھا۔ اور ہم نے یکم فروری ۱۸۹۷ ؁ء سے چالیس روز میں دیکھو حاشیہ اشتہار یکم فروری ۱۸۹۷ ؁ء صفحہ۳ جس کی عبارت یہ ہے۔ اگر نشانے ازمادریں مدت یعنی چہل روز بظہور آمد و از ایشاں یعنی از شیخ نجفی چیزے بظہور نیا مدہمیں دلیل برصدق ماو کذب شان خواہد بود سو یکم فروری ۱۸۹۷ء سے ۳۵ دن تک یعنی چالیس روز کے اندر نشان موت پنڈت لیکھرام وقوع میں آگیا۔ نجفی صاحب یہ تو بتلاویں کہ یکم فروری ۱۸۹۷ء سے آج تک کتنے دقیقے گذر گئے ہیں۔ افسوس کہ نجفی نے کسی منارہ سے گر کے بھی نہ دکھلایا۔ گر ہمیں لاف و گذاف وشیخی است شیخ نجدی بہتر از صد نجفی است