کھولاؔ کہ وہ قرآن شریف کی ہدایتوں پر چل کر نجات پاسکتے ہیں۔ میں اس بات کا بھی اقرار کرتا ہوں کہ قرآن شریف میں خدا کی محبت انسانوں سے اس قسم کی بیان نہیں کی گئی کہ اس نے کوئی اپنا بیٹا بدکاروں کے گناہوں کے بدلہ میں سولی دلوا دیا اور ان کی *** اپنے پیارے بیٹے پر ڈال دی۔ خدا کے بیٹے پر *** نعوذ باللہ خود خدا پر *** ہے۔ کیونکہ باپ اور بیٹا دو نہیں ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ *** اور خدائی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں پھر یہ بھی سوچو کہ خدا نے دنیا کے بدکاروں سے یہ کیسی محبت کی کہ نیک کو مارا اور برے سے پیار کیا۔ یہ ایسا خلق ہے جس کی کوئی راستباز پیروی نہیں کر سکتا۔
اور اس سوال کی تیسری جز یہ ہے کہ قرآن شریف میں یہ کہاں لکھا ہے کہ انسان انسان کے ساتھ محبت کرے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن نے اس جگہ بجائے محبت کے رحم اور ہمدردی کا لفظ لیا ہے کیونکہ محبت کا انتہا عبادت ہے اس لئے محبت کا لفظ حقیقی طور پر خدا سے خاص ہے۔*اور نوع انسان کیلئے بجائے محبت کے خدا کے کلام میں رحم اور احسان کا لفظ آیا ہے کیونکہ کمال محبت پرستش کو چاہتا ہے اور کمال رحم ہمدردی کو چاہتا ہے۔ اس فرق کو غیر قوموں نے نہیں سمجھا اور خدا کا حق غیروں کو دیا۔ میں یقین نہیں رکھتا کہ یسوع کے منہ سے ایسا مشرکانہ لفظ نکلا ہو بلکہ میرا گمان ہے کہ پیچھے سے یہ مکروہ الفاظ انجیلوں میں ملا دئیے گئے ہیں اور پھر ناحق یسوع کو بدنام کیا گیا۔ غرض خدا کی پاک کلام میں بنی نوع کے لئے رحم کا لفظ آیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3۱ 3۲یعنی مومن وہ ہیں جو حق اور رحم کی وصیت کرتے ہیں۔ اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے 3۳ یعنی خدا کا حکم یہ ہے کہ تم عام لوگوں کے ساتھ عدل کرو۔ اور اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم احسان کرو۔ اور
*محبت کا لفظ جہاں کہیں باہم انسانوں کی نسبت آیا بھی ہو اس سے درحقیقت حقیقی محبت مراد نہیں ہے بلکہ اسلامی تعلیم کی رو سے حقیقی محبت صرف خدا سے خاص ہے۔ اور دوسری محبتیں غیر حقیقی اور مجازی طور پر ہیں۔ منہ