اسؔ سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم بنی نوع سے ایسی ہمدردی بجالاؤ جیسا کہ ایک قریبی کو اپنے قریبی کے ساتھ ہوتی ہے۔ اب سوچنا چاہئے کہ اس سے زیادہ دنیا میں اور کونسی اعلیٰ تعلیم ہوگی جس میں تمام بنی نوع کے ساتھ نیکی کرنا صرف احسان کی حد تک محدود نہیں رکھا۔ بلکہ وہ درجہ جوش طبعی بھی بیان کر دیا جس کا نام ایتاء ذی القربیٰ ہے۔ کیونکہ احسان کرنے والا اگرچہ احسان کے وقت ایک نیکی کرتا ہے مگر جزا اور پاداش کا خواہاں ہوتا ہے۔ اسی لئے وہ کبھی منکر احسان اور کافر نعمت پر ناراض بھی ہو جاتا ہے۔ اور کبھی جوش میں آکر اپنا احسان بھی یاد دلاتا ہے۔ مگر طبعی جوش سے نیکی کرنا جس کو قرآن نے ذوی القربیٰ کی نیکی کے ساتھ مشابہت دی ہے۔ یہ درحقیقت آخری درجہ نیکی کا ہے جس کے بعد اور کوئی مرتبہ نیکی کا نہیں کیونکہ ماں کی نیکی بچہ کے ساتھ اور اس کا رحم ایک طبعی جوش ہے اور ناکارہ شیرخوار سے کوئی شکر گذاری مطلوب نہیں۔ یہ تین درجے بنی نوع کی حق گذاری کے ہیں جو قرآن شریف نے بیان فرمائے ہیں۔ اب جب ہم توریت اور انجیل کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ایماناً کہنا پڑتا ہے کہ یہ دونوں کتابیں اس اعلیٰ درجہ کی حق گذاری سے خالی ہیں۔ بھلا ہم ان دونوں کتابوں سے اس تیسرے درجہ کی کیا توقع رکھیں۔ ان میں تو پہلا اور دوسرا درجہ بھی کامل طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ کیونکہ جس حالت میں توریت صرف یہودیوں کے لئے نازل ہوئی ہے اور حضرت مسیح بھی صرف بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے بھیجے گئے ہیں تو ان کو دوسروں سے کیا غرض اور کیا تعلق تھا۔ تا ان کی نسبت عدل اور احسان کی ہدایتیں بیان کی جاتیں۔ لہٰذا وہ تمام احکام بنی اسرائیل تک ہی محدود رہے۔ اور اگر محدود نہیں تھے توکیوں