3 ۱؂ یعنی ان کو جو تیری پیروی کرنا چاہتے ہیں یہ کہہ دے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا زندہ رہنا سب اللہ تعالیٰ کیلئے ہے یعنی جو میری پیروی کرنا چاہتا ہے وہ بھی اس قربانی کو ادا کرے۔ اور پھر ایک جگہ فرمایا کہ اگر تم اپنی جانوں اور اپنے دوستوں اور اپنے باغوں اور اپنی تجارتوں کو خدا اور اس کے رسول سے زیادہ پیاری چیزیں جانتے ہو تو الگ ہو جاؤ جب تک خدا تعالیٰ فیصلہ کرے۔ اور ایسا ہی ایک جگہ فرمایا۔33۲؂ ۔ یعنی مومن وہ ہیں جو خدا کی محبت سے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلاتے ہیں اور انہیں کہتے ہیں کہ ہم محض خدا کی محبت اور اس کے منہ کے لئے تمہیں دیتے ہیں۔ ہم تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتے اور نہ شکر گذاری چاہتے ہیں۔ غرض قرآن شریف ایسی آیتوں سے بھرا پڑا ہے جہاں لکھا ہے کہ اپنے قول اور فعل کے رو سے خدا کی محبت دکھلاؤ اور سب سے زیادہ خدا سے محبت کرو۔ لیکن اس سوال کی یہ دوسری جز کہ قرآن شریف میں کہاں لکھا ہے کہ خدا بھی انسانوں سے محبّت کرتا ہے؟ پس واضح ہو کہ قرآن شریف میں یہ آیات بکثرت موجود ہیں کہ خدا توبہ کرنیوالوں سے محبت کرتا ہے*۔اور خدا نیکی کرنیوالوں سے محبت کرتا ہے اور خدا صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ ہاں قرآن شریف میں یہ کہیں نہیں کہ جو شخص کفر اور بدکاری اور ظلم سے محبت کرتا ہے خدا اس سے بھی محبت کرتا ہے۔ بلکہ اس جگہ اس نے احسان کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3 ۳؂ یعنی تمام دنیا پر رحم کر کے ہم نے تجھے بھیجا ہے۔ اور عالمین میں کافر اور بے ایمان اور فاسق اور فاجر بھی داخل ہیں۔ اور انکے لئے رحم کا دروازہ اس طرح پر * خدا کی محبت انسان کی محبت کی طرح نہیں جس میں یہ داخل ہے کہ جدائی سے درد اور تکلیف ہو بلکہ خدا کی محبت سے مراد یہ ہے کہ وہ نیکی کرنیوالوں کے ساتھ ایسا پیش آتا ہے جیسا کہ محب پیش آتا ہے۔ منہ