ایکؔ گناہ کیا ہے تو کیا اس کو مارنا بہترہے یا عفو کرنا۔ اور ایک سائل جو ہم سے مثلاً ہزار روپیہ اس غرض سے مانگتاہے کہ وہ اس روپیہ سے اپنے لڑکے کی دھوم دھام سے شادی کرے اور آتش بازی اور گانے والی عورتیں اور دوسرے باجوں کے ساتھ اپنے خاندان کے رسوم کے موافق اس رسم کو ادا کرے۔ تو گو ہم ہزار روپیہ اس کو دے سکتے ہیں مگر ہمیں امر معروف اور نہی منکر کے قاعدہ کے لحاظ سے سوچ لینا چاہئے کہ ایسی سخاوت سے ہم کس شخص کی مدد کرتے ہیں۔ غرض اسی طرح قرآن نے ہمارے دین اور دنیا کی بہبودی کیلئے ہمارے ہر ایک کارخیر میں محل اور موقعہ کی قید لگا دی ہے۔ اب میں میاں سراج الدین صاحب کے سوال دوم کا پورا جواب دے چکا ہوں اور میں لکھ چکا ہوں کہ اسلام نے یہودیوں کے ساتھ توحید منوانے کیلئے لڑائیاں نہیں کیں بلکہ اسلام کے مخالف خود اپنی شرارتوں سے لڑائیوں کے محرک ہوئے۔ بعض نے مسلمانوں کے قتل کرنے کیلئے خود پہلے پہل تلوار اٹھائی۔ بعض نے ان کی مدد کی۔ بعض نے اسلام کی تبلیغ روکنے کیلئے بے جا مزاحمت کی۔ سو ان تمام موجبات کی وجہ سے مفسدین کی سرکوبی اور سزا اور شر کی مدافعت کیلئے خداتعالیٰ نے ان ہی مفسدوں کے مقابل پر لڑائیوں کا حکم کیا۔ اور یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے تیرہ برس تک اس وجہ سے مخالفوں سے لڑائی نہیں کی کہ اس وقت تک پوری جمعیّت حاصل نہیں ہوئی تھی یہ محض ظالمانہ اور مفسدانہ خیال ہے۔ اگر صورت حال یہ ہوتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے مخالف تیرہ برس تک ان ظلموں اور خونریزیوں سے باز رہتے جو مکہ میں ان سے ظہور پذیر ہوئے اور پھرآپ منصوبہ کر کے یہ تجویز نہ کرتے کہ یا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو قتل کر دینا چاہئے اور یا وطن سے نکال دینا چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم آپ ہی بغیر حملہ مخالفین کے مدینہ کی طرف چلے جاتے تو ایسی بدظنیوں کی کوئی جگہ بھی ہوتی لیکن یہ