انتقاؔ م سے بالکل دور اور مہجور ہیں اور چاہتا ہے کہ ان کے ایسے دل ہو جائیں کہ انتقام لینے کے حریص نہ ہوں اور صبر اور برداشت اور عفو اور درگذر اپنی عادت کریں۔ اس کا یہی سبب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں یہودیوں کی اخلاقی حالت میں بہت فتور آگیا تھا اور مقدمہ بازی اور کینہ کشی میں انتہا تک پہنچ گئے تھے۔ اور اس بہانہ سے کہ ہم قانون عدل کے حامی ہیں رحم اور درگذر کی خصلتیں بالکل ان میں سے دور ہوگئی تھیں۔ سو انجیل کی نصیحتیں قانون مختص الزمان کی طرح یا قانون مختص القوم کی طرح ان کو سنائی گئی تھیں۔ مگر یہ واقعی قانون کی تصویر نہ تھی اس لئے قرآن نے آکر اس کو دور کر دیا۔ جس وقت ہم قرآن کو غور سے دیکھتے ہیں اور صاف دل سے اس کے مقصد کے گہراؤ تک چلے جاتے ہیں تو ہمیں صاف دکھائی دیتا ہے کہ قرآن نے نہ توریت کی طرح انتقام اور سختی پر ایسا زور ڈالا ہے کہ جیسا کہ توریت کی لڑائیوں اور قانون قصاص سے ثابت ہوتا ہے۔ اور نہ انجیل کی طرح یکدفعہ عفو اور صبر اور درگذر کی تعلیم پر گر پڑا ہے بلکہ بار بار امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیتا ہے۔ یعنی یہ حکم دیتا ہے کہ جو امر عقل اور شرع کے رو سے بہتر اور محل پر ہو اس کو بجا لاؤ اور جس پر عقل اور شرع کا اعتراض ہو اور منکرات میں سے ہو اس سے دست بردارہو جاؤ۔ سو قرآن کے دیکھنے سے ایسا پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے قوانین اور حدود اور اوامر کو علم کے رنگ میں ہمارے دلوں میں جمانا چاہتا ہے۔ کیونکہ وہ شخصی امر اور نہی کے زندان میں ہمیں محبوس کرنا نہیں چاہتا بلکہ اپنی پاک شریعت کو قواعد کلیہ کے طور پر بیان کر دیتا ہے۔ مثلاً وہ ایک کلام کلی کے طور پر حکم فرماتا ہے کہ تم معروف کو بجالاؤ اور منکر سے دستکش ہو جاؤ۔ سو یہ دو کلمے یعنی معروف اور منکر ایسے جامع کلمے ہیں جو شریعت کے قوانین کو علمی رنگ میں لے آتے ہیں اور اس تعلیم سے ہر ایک محل میں یہ سوچنا پڑتا ہے کہ حقیقی نیکی کیا ہے۔ مثلاً اس وقت جو زید نے ہمارا