وا ؔ قعہ تو ہمارے مخالفوں کو بھی معلوم ہے کہ تیرہ برس کے عرصہ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دشمنوں کی ہر ایک سختی پر صبر کرتے رہے اور صحابہ کو سخت تاکید تھی کہ بدی کا مقابلہ نہ کیا جائے چنانچہ مخالفوں نے بہت سے خون بھی کئے اور غریب مسلمانوں کو زدوکوب کرنے اور خطرناک زخم پہنچانے کا تو کچھ شمار نہ رہا۔ آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے قتل کرنے کے لئے حملہ کیا۔ سو ایسے حملہ کے وقت خدا نے اپنے نبی کو شرِّ اعدا سے محفوظ رکھ کر مدینہ میں پہنچا دیا اور خوشخبری دی کہ جنہوں نے تلوار اٹھائی وہ تلوار ہی سے ہلاک کئے جائیں گے۔ پس ذرا عقل اور انصاف سے سوچو کہ کیا اس روئداد سے یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کچھ جمعیّت لوگوں کی ہوگئی تو پھر لڑائی کی نیت جو پہلے سے دل میں پوشیدہ تھی ظہور میں آئی؟ افسوس ہزار افسوس کہ تعصب مذہبی کے رو سے عیسائی دین کے حامیوں کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے۔ یہ بھی نہیں سوچتے کہ مدینہ میں جاکر جب مکہ والوں کے تعاقب کے وقت بدر کی لڑائی ہوئی جو اسلام کی پہلی لڑائی ہے تو کونسی جمعیت پیدا ہوگئی تھی۔ اس وقت تو کل تین ۳۱۳ سو تیر ہ آدمی مسلمان تھے اور وہ بھی اکثر نوعمر ناتجربہ کار جو میدان بدر میں حاضر ہوئے تھے۔ پس سوچنے کا مقام ہے کہ کیا اس قدر آدمیوں پر بھروسہ کر کے عرب کے تمام بہادروں اور یہود اور نصاریٰ اور لاکھوں انسانوں کی سرکوبی کیلئے میدان میں کسی کا نکلنا عقل فتویٰ دے سکتی ہے؟!!! اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ نکلنا ان تدبیروں اور ارادوں کا نتیجہ نہیں تھا جو انسان دشمنوں کے ہلاک کرنے اور اپنی فتح یابی کیلئے سوچتا ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو کم سے کم تیس۳۰ چالیس۴۰ ہزار فوج کی جمعیّت حاصل کرلینا ضروری تھا اور پھر اسکے بعد لاکھوں انسانوں کا مقابلہ کرنا۔ لہٰذا صاف ظاہر ہے کہ یہ لڑائی مجبوری کے وقت خداتعالیٰ کے حکم سے ہوئی تھی نہ ظاہری سامان کے بھروسہ پر۔
اس جگہ ایک اور اعتراض کو دفع کرنا بھی ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر مدار نجات