اسؔ جگہ یہ اعتراض بھی دور کر دینے کے قابل ہے کہ جس حالت میں حقیقی اور کامل تعلیم یہی ہے جس میں محل اور موقعہ کی رعایت اور ہر ایک نکتہ معرفت کا استیفاء کے ساتھ بیان ہوتو کیا سبب ہے کہ توریت اور انجیل دونوں اس سے خالی رہیں اور قرآن نے ان دونوں باتوں کو کمال تک پہنچایا۔ تو اس کا جواب یہی ہے کہ یہ توریت اور انجیل کا قصور نہیں ہے بلکہ قوموں کی استعداد کا قصور ہے۔ یہودی لوگ جن سے پہلے حضرت موسیٰ کو واسطہ پڑا وہ چار سو برس تک فرعون کی غلامی میں رہے تھے اور ایک مدت دراز تک ظلم کے تختہ مشق رہ کر عدل اور انصاف کی حقیقت سے بے خبر ہوگئے تھے۔ یہ ایک فطرتی قاعدہ ہے کہ اگر بادشاہ وقت جو مؤدّب اور آموزگار کے حکم میں ہوتا ہے عادل ہوتو رعایا کے دل پر عدل کا پرتوہ پڑتا ہے اور طبعاً وہ بھی خلق عدل کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور تہذیب اور شائستگی ان میں پیدا ہو کر عادلانہ صفات اپنا جلوہ دکھاتی ہیں۔ لیکن اگر بادشاہ ظالم ہو تو رعایا بھی اس سے ظلم اور تعدّی کا سبق سیکھتی ہے اور اکثر ان کی صفت عدل سے محروم ہوتی ہے۔ پس یہی حال بنی اسرائیل کا ہوا کہ وہ لوگ ایک مدت دراز تک فرعون جیسے ظالم بادشاہ کی رعایا رہ کر اور طرح طرح کے ظلم اٹھا کر عدل کی کیفیت سے بالکل غافل ہوگئے۔ سو حضرت موسیٰ کا فرض یہ تھا کہ ان کو سب سے پہلے عدل کا سبق دیں۔ اسلئے توریت میں عدل کی حفاظت کیلئے بڑے شدومد سے آیات پائی جاتی ہیں۔ ہاں رحم کی آیات کا بھی توریت میں پتہ ملتا ہے۔ لیکن اگر غور سے دیکھو تو ایسی آیتیں بھی عدل کے حدود کی نگہداشت کیلئے اور ناجائز جذبات اور بے جا کینوں کے روکنے کیلئے بیان فرمائی گئی ہیں۔ اور ہر جگہ اصل مدعا قوانین عدل اور انصاف کی نگہداشت ہے لیکن انجیل پڑھنے سے یہ مدعا معلوم نہیں ہوتا بلکہ انجیل میں عفو اور ترک انتقام پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اور جب ہم انجیل کو تدبر اور عمیق نگاہ سے دیکھتے ہیں تو اس کے سلسلہ عبارت سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ اس کتاب کا لکھنے والا اپنے مخاطبین کی نسبت یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ لوگ طریق مروت اور صبر اور ترک