الو ؔ ہیت جو سورہ فاتحہ میں ثابت ہوئے ہیں وہ ان کی پیش کردہ عبارتوں میں بھی ثابت ہیں تو ہم پانسو روپیہ جو پہلے سے ان کے لئے ان کی اطمینان کی جگہ پر جمع کرایا جائے گا دے دیں گے۔
اب کیا کسی پادری کا حوصلہ ہے جو ایسا مقابلہ کرے؟ خدا کا کلام خدا کی طاقتوں سے ثابت ہوتا ہے جیسا کہ اس کی مصنوعات عجائب قدرت سے ثابت ہوتی ہیں۔ مثلاً آسمان پر ہزاروں ستارے ہیں۔ اب اگر کوئی بیوقوف چند ستاروں کی طرف اشارہ کر کے کہہ دے کہ ان کی کیا ضرورت ہے لہٰذا یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں یا چند بوٹیوں یا پتھروں یا جانوروں کا نام لے کر کہہ دے کہ ان کے وجود کے بغیر دوسری بوٹیوں وغیرہ سے کام چل سکتا ہے۔ اس لئے یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے تو ایسا قائل بجز دیوانہ یا احمق کے اور کون ہو سکتا ہے۔
یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ قرآن ان تمام کمالات کا جامع ہے جن کی انسان کو تکمیل نفس کیلئے حاجت ہے۔ اور توریت کی قرآن کے ساتھ یہ مثال ہے کہ جیسے ایک مسافر خانہ تھا وہ بڑی بڑی آندھیوں اور زلزلوں کے باعث سے گر پڑا اور بجائے اس مسافر خانہ کے ایک اینٹوں کا ڈھیر لگ گیا اور پاخانہ کی اینٹیں باورچی خانہ میں اور باورچی خانہ کی پاخانہ میں جا پڑیں اور سب مکان زیر و زبر ہوگیا۔ پس اس سرائے کے مالک کو مسافروں کے حال پر رحم آیا۔ سو اس نے فی الفور بجائے اس مسافر خانہ کے ایک ایسا عمدہ اور آرام بخش مسافر خانہ طیار کیا جو اس پہلے سے بہتر اور مسافروں کے لئے نہایت آرام بخش مکانات اپنے اپنے قرینہ سے اس میں موجود تھے اور کسی ضرورت کے مکان کی کمی نہیں تھی۔ اور مالک نے اس آخر الذکر مسافر خانہ کی تعمیر میں کچھ تو وہی اینٹیں پہلے مسافر خانہ کی لے لیں اور کچھ زیادہ اینٹیں اور لکڑی وغیرہ مصالح بہم پہنچایا جو عمارت کو کامل طور پر کافی ہو سکتا تھا۔ سو قرآن شریف وہی دوسرا مسافر خانہ ہے۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے!!