سو ؔ توریت اور انجیل قرآن کا کیا مقابلہ کریں گی۔ اگر صرف قرآن شریف کی پہلی سورت کے ساتھ ہی مقابلہ کرنا چاہیں یعنی سورۃ فاتحہ کے ساتھ جو فقط سات آیتیں ہیں اور جس ترتیب انسب اور ترکیب محکم اور نظام فطرتی سے اس سورۃ میں صدہا حقائق اور معارف دینیہ اور روحانی حکمتیں درج ہیں ان کو موسیٰ کی کتاب یا یسوع کے چند ورق انجیل سے نکالنا چاہیں تو گو ساری عمر کوشش کریں تب بھی یہ کوشش لاحاصل ہوگی۔ اور یہ بات لاف و گزاف نہیں بلکہ واقعی اور حقیقی یہی بات ہے کہ توریت اور انجیل کو علوم حکمیہ میں سورہ فاتحہ کے ساتھ بھی مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ ہم کیا کریں اور کیونکر فیصلہ ہو پادری صاحبان ہماری کوئی بات بھی نہیں مانتے۔ بھلا اگر وہ اپنی توریت یا انجیل کو معارف اور حقائق کے بیان کرنے اور خواص کلام الوہیت ظاہر کرنے میں کامل سمجھتے ہیں تو ہم بطور انعام پانسو روپیہ نقد ان کو دینے کیلئے طیار ہیں۔ اگر وہ اپنی کل ضخیم کتابوں میں سے جو ستّر کے قریب ہوں گی وہ حقائق اور معارف شریعت اور مرتّب اور منتظم دُرر حکمت و جواہر معرفت و خواص کلام الوہیت دکھلا سکیں جو سورہ فاتحہ میں سے ہم پیش کریں۔ اور اگر یہ روپیہ تھوڑا ہو تو جس قدر ہمارے لئے ممکن ہوگا ہم ان کی درخواست پر بڑھا دیں گے۔ اور ہم صفائی فیصلہ کیلئے پہلے سورہ فاتحہ کی ایک تفسیر طیّار کر کے اور چھاپ کر پیش کریں گے اور اس میں وہ تمام حقائق و معارف و خواص کلام الوہیت بہ تفصیل بیان کریں گے جو سورہ فاتحہ میں مندرج ہیں۔ اور پادری صاحبوں کا یہ فرض ہوگا کہ توریت اور انجیل اور اپنی تمام کتابوں میں سے سورہ فاتحہ کے مقابل پر حقائق اور معارف اور خواص کلام الوہیت جس سے مراد فوق العادۃ عجائبات ہیں جن کا بشری کلام میں پایا جانا ممکن نہیں پیش کر کے دکھلائیں۔ اور اگر وہ ایسا مقابلہ کریں اور تین۳ منصف غیر قوموں میں سے کہہ دیں کہ وہ لطائف اور معارف اور خواص کلام