اورؔ قرآن نے ناحق پھر ایسی شریعت کی بنیاد ڈال دی جو پہلے مکمّل ہو چکی تھی۔ یہی دھوکہ عیسائیوں کے ایمان کو کھا گیا ہے۔ مگر یاد رہے کہ یہ بات بالکل صحیح نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ چونکہ انسان سہو و نسیان سے مرکب ہے اور نوع انسان میں خدا کے احکام عملی طور پر ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتے اس لئے ہمیشہ نئے یاد دلانے والے اور قوت دینے والے کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن قرآن شریف صرف ان ہی دو ضرورتوں کی وجہ سے نازل نہیں ہوا بلکہ وہ پہلی تعلیموں کا درحقیقت متمم اور مکمّل ہے۔ مثلاً توریت کا زور حالات موجودہ کے لحاظ سے زیادہ تر قصاص پر ہے اور انجیل کا زور حالات موجودہ کے لحاظ سے عفو اور صبر اور درگذر پر ہے اور قرآن ان دونوں صورتوں میں محل شناسی کی تعلیم دیتا ہے۔ ایسا ہی ہر ایک باب میں توریت افراط کی طرف گئی ہے اور انجیل تفریط کی طرف اور قرآن شریف وسط کی تعلیم کرتا اور محل اور موقعہ کا سبق دیتا ہے۔ گو نفس تعلیم تینوں کتابوں کا ایک ہی ہے مگر کسی نے کسی پہلو کو شدّومد کے ساتھ بیان کیا اور کسی نے کسی پہلو کو۔ اور کسی نے فطرت انسانی کے لحاظ سے درمیانہ راہ لیا جو طریق تعلیم قرآن ہے اور چونکہ محل اور موقعہ کا لحاظ رکھنا یہی حکمت ہے سو اس حکمت کو صرف قرآن شریف نے سکھلایا ہے۔ توریت ایک بیہودہ سختی کی طرف کھینچ رہی ہے*اور انجیل ایک بیہودہ عفو پر زور دے رہی ہے اور قرآن شریف وقت شناسی کی تاکید کرتا ہے۔ پس جس طرح پستان میں آکر خون دودھ بن جاتا ہے۔ اسی طرح توریت اور انجیل کے احکام قرآن میں آکر حکمت بن گئے ہیں۔ اگر قرآن شریف نہ آیا ہوتا تو توریت اور انجیل اس اندھے کے تیر کی طرح ہوتیں کہ کبھی ایک آدھ دفع نشانہ پر لگ گیا اور سو دفعہ خطا گیا۔ غرض شریعت قصّوں کے طور پر توریت سے آئی اور مثالوں کی طرح انجیل سے ظاہر ہوئی اور حکمت کے پیرایہ میں قرآن شریف سے حق اور حقیقت کے طالبوں کو ملی۔
* یہ سختی اور نرمی اپنے اپنے زمانہ اور قوم کی موجودہ حالت کے لحاظ سے مناسب تعلیم تھی مگر حقیقی تعلیم نہیں تھی جو قابل ترک نہ ہو۔ منہ