بعض آریہ اخبار والوں نے یہ تعجب کیا کہ لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی ہے اور اس کی مدت بتائی گئی۔ دن بتایا گیا۔ موت کا ذریعہ بتایا گیا۔ یہ باتیں کب ہو سکتی ہیں جب تک ایک بھاری سازش اس کی بنیاد نہ ہو۔ چنانچہ پرچہ ضمیمہ سماچار لاہور ۱۰؍ مارچ ۱۸۹۷ء اور ضمیمہ انیس ہند میرٹھ ۱۰؍ مارچ ۱۸۹۷ء نے اس بارے میں بہت زہر اگلا ہے۔ ایڈیٹر انیس ہند اپنے پرچہ کے ۱۳ صفحہ میں یہ بھی لکھتا ہے کہ ’’ہمارا ماتھا تو اسی وقت ٹھنکا تھا جب مرزا غلام احمد قادیانی نے آپ کی وفات کی بابت پیشین گوئی کی تھی ورنہ ان حضرت کو کیا علم غیب تھا؟‘‘ اب واضح ہو کہ یہ تمام صاحب آپ اس بات کو تنقیح طلب ٹھہراتے ہیں کہ کیا خدا نے اس شخص کو علم غیب دیا تھا؟ اور کیا خدا سے ایسا ہونا ممکن ہے؟ سو اس وقت ہم بطور نمونہ بعض اورؔ پیشگوئیوں کو درج کرتے ہیں تا ان نظائر کو دیکھ کر آریہ صاحبوں کی آنکھیں کھلیں اور وہ یہ ہیں: اول۔ احمد بیگ ہوشیارپوری کی موت کی پیشگوئی۔ جس کی نسبت لکھا گیا تھا کہ وہ تین۳ برس کی میعاد میں فوت ہو جائے گا۔ اور ضرور ہے کہ اپنے مرنے سے پہلے اور مصیبتیں بھی دیکھے۔ چنانچہ اس نے اس اشتہار کے بعد اپنے پسر کے فوت ہونے کی مصیبت دیکھی۔ اور پھر اس کی ہمشیرہ عزیزہ کی وفات کا ناگہانی واقعہ اس کی نظر کے سامنے وقوع میں آیا۔ اور بعد اس کے وہ تین سال کی میعاد کے اندر خود بمقام ہوشیار پور فوت ہوگیا*اب اس پیشگوئی کے دو حصے تھے ایک احمد بیگ کی نسبت اور ایک اس کے داماد کی نسبت اور پیشگوئی کے بعض الہامات میں جو پہلے سے شائع ہو چکے تھے یہ شرط تھی کہ توبہ اور خوف کے وقت موت میں تاخیر ڈال دی جائے گی سو افسوس کہ احمد بیگ کو اس شرط سے فائدہ اٹھانا نصیب نہ ہوا کیونکہ اس وقت اس کی بدقسمتی سے اس نے اور اس کے تمام عزیزوں نے پیشگوئی کو انسانی مکر اور فریب پر حمل کیا اور ٹھٹھا اور ہنسی شروع کر دی اور وہ ہمیشہ ٹھٹھا اور ہنسی کرتے تھے کہ پیشگوئی کے وقت نے اپنا منہ دکھلادیا اور احمد بیگ ایک محرقہ تپ کے ایک دو دن کے حملہ سے ہی اس جہان سے رخصت ہو گیا۔ تب تو ان کی آنکھیں کھل گئیں اور داماد کی بھی فکر پڑی اور خوف اور توبہ اور نماز روزہ میں عورتیں لگ گئیں اور مارے ڈر کے ان کے کلیجے کانپ اٹھے۔ پس ضرور تھا کہ ا س درجہ کے خوف کے وقت خدا اپنی شرط کے موافق عمل کرتا۔ سو وہ لوگ سخت احمق اور کاذب اور ظالم ہیں جو کہتے ہیں کہ داماد کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی بلکہ وہ بدیہی طور پر حالت موجود ہ کے موافق پوری ہو گئی۔ اور دوسرے پہلو کی انتظار ہے۔ منہ