بھیؔ ثابت نہیں۔ اور اگر کچھ ثابت ہے تو صرف یہی کہ چند آدمی طمع اور لالچ سے بھرے ہوئے اس کے ساتھ ہوگئے۔ اور انجام کار انہوں نے بڑی قابل شرم بے وفائیاں دکھلائیں۔ اور اگر یسوع نے خودکشی کی تو میں اس سے زیادہ ہرگز تسلیم نہیں کروں گا کہ ایک ایسی بیوقوفی کی حرکت اس سے صادر ہوئی جس سے اس کی انسانیت اور عقل پر ہمیشہ کیلئے داغ لگ گیا۔ ایسی حرکت جس کو انسانی قوانین بھی ہمیشہ جرائم کے نیچے داخل کرتے ہیں کیا کسی عقلمند سے صادر ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ پس ہم پوچھتے ہیں کہ یسوع نے کیا سکھلایا اور کیا دیا؟ کیا وہ *** قربانی جس کا عقل اور انصاف کے نزدیک کوئی بھی نتیجہ معلوم نہیں ہوتا۔
یاد رہے کہ انجیل کی تعلیم میں کوئی نئی خوبی نہیں بلکہ یہ سب تعلیم توریت میں پائی جاتی ہے اور اس کا ایک بڑا حصہ یہودیوں کی کتاب طالموت میں اب تک موجود ہے۔ اور یہودی فاضل اب تک روتے ہیں کہ ہماری پاک کتابوں سے یہ فقرے چرائے گئے ہیں۔ چنانچہ حال میں جو ایک فاضل یہودی کی کتاب میرے پاس آئی ہے اس نے اسی بات کا ثبوت دینے کے لئے کئی ورق لکھے ہیں اور بڑے زور سے اسناد پیش کئے ہیں کہ یہ فقرات کہاں کہاں سے چرائے گئے۔ میں نے یہ کتابیں صرف میاں سراج الدین کے لئے منگوائی تھیں مگر ان کی بدقسمتی ہے کہ وہ دیکھنے سے پہلے چلے گئے۔ محقق عیسائی اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ درحقیقت انجیل یہودیوں کی کتابوں کے ان مضامین کا ایک خلاصہ ہے جو حضرت مسیح کو پسند آئی۔ لیکن بالآخر یہ کہتے ہیں کہ مسیح کے دنیا میں آنے سے یہ غرض نہیں تھی کہ کوئی نئی تعلیم لائے بلکہ اصل مطلب تو اپنے وجود کی قربانی دینا تھا یعنی وہی *** قربانی جس کے بار بار کے ذکر سے میں اس رسالہ کو پاک رکھنا چاہتا ہوں۔ غرض عیسائیوں کو یہ دھوکہ لگا ہوا ہے کہ شریعت توریت تک مکمل ہو چکی اس لئے یسوع کوئی شریعت لے کر نہیں آیا بلکہ نجات دینے کے سامان لے کر آیا