میںؔ وہ مبتلا ہوگئے ہوں۔ یہی مسئلہ دنیا میں ہزاروں دفعہ صیقل ہوا اور ہزاروں دفعہ پھر زنگ خوردہ کی طرح ہوکر لوگوں کی نظروں سے چھپ گیا۔ اور جب چھپ گیا تو پھر خدا نے اپنے کسی بندہ کو بھیجا تا نئے سرے اس کو روشن کر کے دکھلائے۔ اسی طرح دنیا میں کبھی ظلمت کبھی نور غالب آتا رہا۔ اور ہر ایک نبی کی شناخت کا یہ نہایت اعلیٰ درجہ کا معیار ہے کہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کس وقت آیا اور کس قدر اصلاح اس کے ہاتھ سے ظہور میں آئی۔ چاہئے کہ حق طلبی کی راہ سے اسی بات کو سوچیں اور شریروں اور متعصب لوگوں کے پُر خیانت اقوال کی طرف توجہ نہ کریں اور ایک صاف نظر لے کر کسی نبی کے حالات کو دیکھیں کہ اس نے ظہور فرما کر اس زمانہ کے لوگوں کو کس حالت میں پایا اور پھر اس نے ان لوگوں کے عقائد اور چال چلن میں کیا تبدیلی کر کے دکھلائی تو اس سے ضرور پتہ لگ جائے گا کہ کون نبی اشد ضرورت کے وقت آیا اور کون اس سے کمتر۔ نبی کی ضرورت گنہگاروں کے لئے بعینہٖ ایسی ہی ہوتی ہے جیسا کہ طبیب کی ضرورت بیماروں کے لئے۔ اور جیسا کہ بیماروں کی کثرت ایک طبیب کو چاہتی ہے ایسا ہی گنہگاروں کی کثرت ایک مصلح کو۔ اب اگر کوئی اس قاعدہ کو ذہن میں رکھ کر عرب کی تاریخ پر نظر ڈالے کہ عرب کے باشندے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ظہور سے پہلے کیا تھے اور پھر کیا ہوگئے تو بلاشبہ وہ اس نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ و سلم کو قوّت قدسی اور تاثیر قوی اور افاضہ برکات میں سب نبیوں سے اول درجہ پر سمجھے گا۔ اور اسی بنا پر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور قرآن کی ضرورت کو دوسری تمام کتابوں اور نبیوں کی ضرورت سے بدیہی الثبوت یقین کرے گا۔ مثلاً یسوع نے دنیا میں آکر دنیا کی کس ضرورت کو پورا کیا؟ اور اس کا ثبوت کیا ہے کہ اس نے کوئی ضرورت پوری کی؟ کیا یہودیوں کے اخلاق اور عادات اور ایمان میں کوئی بھاری تبدیلی کر دی یا اپنے حواریوں کو تزکیہ نفس میں کمال تک پہنچا دیا؟ بلکہ ان پاک اصلاحوں میں سے کچھ