کہؔ قرآن کی ضرورت کیا تھی۔ اے غافلو! اور دلوں کے اندھو! قرآن جیسے ضلالت کے طوفان کے وقت میں آیا ہے کوئی نبی ایسے وقت میں نہیں آیا۔ اس نے دنیا کو اندھا پایا اور روشنی بخشی۔ اور گمراہ پایا اور ہدایت دی۔ اور مردہ پایا اور جان عطا فرمائی۔ تو کیا ابھی ضرورت ثابت ہونے میں کچھ کسررہ گئی؟ اور اگر یہ کہو کہ توحید تو پہلے بھی موجود تھی قرآن نے نئی چیز کونسی دی؟ تو اس سے اور بھی تمہاری عقل پر رونا آتا ہے۔ میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ توحید پہلی کتابوں میں ناقص طور پر تھی اور تم ہرگز ثابت نہیں کر سکتے کہ کامل تھی۔ ماسوا اس کے توحید دلوں سے بکلی گم ہوگئی تھی قرآن نے اس توحید کو پھر یاد دلایا اور اس کو کمال تک پہنچایا۔ قرآن کا نام اسی لئے ذِکْر ہے کہ وہ یاد دلانے والا ہے۔ ذرا آنکھ کھول کر سوچو کہ کیا توریت نے جو کچھ توحید کے بارے میں بیان کیا تھا وہ ایک ایسی نئی بات تھی جو پہلے نبیوں کو اس کی خبر نہیں تھی۔ کیا یہ سچ نہیں کہ سب سے پہلے آدم کو اور پھر شیث اور نوح اور ابراہیم اور دوسرے رسولوں کو جو موسیٰ سے پہلے آئے توحید کی تعلیم ملی تھی؟ پس یہ توریت پر بھی اعتراض ہے کہ اس نے نئی چیز کونسی پیش کی۔ اے کج دل قوم خدا روز روز نیا نہیں ہو سکتا۔ موسیٰ کے وقت میں وہی خدا تھا جو آدم اور شیث اور نوح اور ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب اور یوسف کے وقت میں تھا۔ اور توریت نے وہی توحید کے بارے میں بیان کیا جو پہلے نبی کرتے آئے۔ اب اگر یہ سوال ہو کہ کیوں توریت نے اسی پرانی توحید کا ذکر کیا تو اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کی ہستی اور وحدانیت کا مسئلہ توریت سے شروع نہیں ہوا بلکہ قدیم سے چلا آتا ہے۔ ہاں بعض زمانوں میں ترک عمل کی وجہ سے اکثر لوگوں کی نظر میں حقیر اور ذلیل ضرور ہوتا رہا ہے۔ پس خدا کی کتابوں اور خدا کے نبیوں کا یہ کام تھا کہ وہ ایسے وقتوں میں آتے رہے ہیں کہ جب اس مسئلہ توحید پر لوگوں کی توجہ کم رہ گئی ہو اور طرح طرح کے شرکوں