جامہؔ پہنایا۔ اور وہ سلسلہ معارف دینیہ کا جو غیر مکمل تھا اس کو کمال تک پہنچایا۔ اور یسوع کی گردن پر سے *** کا طوق اتارا۔ اور اس کے مرفوع اور سچا نبی ہونے کی شہادت دی۔ تو کیا اس قدر فیض رسانی کے ساتھ ابھی قرآن کی ضرورت ثابت نہ ہوئی؟ یہ یاد رہے کہ قرآن نے بڑی صفائی سے اپنی ضرورت ثابت کی ہے۔ قرآن صاف کہتا ہے 3 ۱؂ یعنی اس بات کو جان لو کہ زمین مرگئی تھی اور اب خدا نئے سرے اسکو زندہ کرنے لگا ہے۔ تاریخ شہادت دیتی ہے کہ قرآن کے زمانہ قرب نزول میں ہر ایک قوم نے اپنا چال چلن بگاڑا ہوا تھا۔ پادری فنڈل مصنف میزان الحق باوجود اس قدر تعصب کے جو اس کے رگ و ریشہ میں بھرا ہوا تھا میزان الحق میں صاف گواہی دیتا ہے کہ قرآن کے نزول کے زمانہ میں یہود و نصاریٰ کا چال چلن بگڑا ہوا تھا اور ان کی حالتیں خراب ہو رہی تھیں اور قرآن کا آنا ان کے لئے ایک تنبیہ تھی۔ مگر اس نادان نے باوجودیکہ یہ تو اقرار کیا کہ قرآن اس وقت آیا جبکہ یہود و نصاریٰ کا چال و چلن بہت خراب ہو رہا تھا لیکن پھر بھی یہ جھوٹا عذر پیش کر دیا کہ خدا تعالیٰ کو ایک جھوٹا نبی بھیج کر یہود و نصاریٰ کو متنبہ کرنا منظور تھا۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ پر تہمت ہے کیا ہم اللہ جلّ شانہٗ کی طرف یہ خراب عادت منسوب کر سکتے ہیں کہ اس نے لوگوں کو گمراہی اور بدچلنی میں پاکر یہ تدبیر سوچی کہ اور بھی گمراہی کے سامان ان کے لئے میسر کرے اور کروڑ ہا بندگان خدا کو اپنے ہاتھ سے تباہی میں ڈالے۔ کیا غلبہ شدائد اور مصائب کے وقت خداتعالیٰ کے قانون قدرت میں یہی عادت اس کی ثابت ہوتی ہے؟ افسوس کہ یہ لوگ دنیا سے محبت کر کے کیسے آفتاب پر تھوک رہے ہیں۔ ایک ناچیز انسان کو خدا بھی کہتے ہیں اور پھر ملعون بھی۔ اور اس عظیم الشان نبی کے وجود سے انکار کر رہے ہیں کہ جو ایسے وقت میں آیا جبکہ نوع انسان مردہ کی طرح ہو رہی تھی۔ اور پھر کہتے ہیں