جرا ؔ ئم پیشہ کی موت کا ذریعہ ہے۔ پس جو شخص صلیب پر مرگیا وہ مجرمانہ موت مرا جو *** موت ہے لیکن مسیح صلیب پر نہیں مرا اور اس کو خدا نے صلیب کی موت سے بچالیا۔ بلکہ جیسا کہ اس نے کہا تھا کہ میری حالت یونس سے مشابہ ہے ایسا ہی ہوا نہ یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا نہ یسوع صلیب کے پیٹ پر۔ اور اسکی دعا ’’ایلی ایلی لما سبقتانی‘‘ سنی گئی۔ اگر مرتا تو پیلاطوس پر بھی ضرور وبال آتا۔ کیونکہ فرشتہ نے پیلاطوس کی جورو کو یہ خبر دی تھی کہ اگر یسوع مرگیا تو یاد رکھ کہ تم پر وبال آئے گا مگر پیلاطوس پر کوئی وبال نہ آیا۔ اور یہ بھی یسوع کے زندہ رہنے کی ایک نشانی ہے کہ اس کی ہڈیاں صلیب کے وقت نہیں توڑی گئیں۔ اور صلیب پر سے اتارنے کے بعد چھیدنے سے خون بھی نکلا اور اس نے حواریوں کو صلیب کے بعد اپنے زخم دکھلائے۔ اور ظاہر ہے کہ نئی زندگی کے ساتھ زخموں کا ہونا ممکن نہ تھا۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا اس لئے *** بھی نہیں ہوا اور بلاشبہ اس نے پاک وفات پائی اور خدا کے تمام پاک رسولوں کی طرح موت کے بعد وہ بھی خدا کی طرف اٹھایا گیا۔ اور بموجب وعدہ اِنّی متوفّیک و رافِعُک الیّ اس کا خدا کی طرف رفع ہوا۔ اگر وہ صلیب پر مرتا تو اپنے قول سے خود جھوٹا ٹھہرتا۔ کیو نکہ اس صورت میں یونس کے ساتھ اس کی کچھ بھی مشابہت نہ ہوتی۔
سو یہی جھگڑا مسیح کے بارے میں یہود اور نصاریٰ میں چلا آتا تھا جس کو آخر قرآن شریف نے فیصلہ کیا۔ پھر ابھی تک نصاریٰ کہتے ہیں کہ قرآن کے اترنے کی کیا ضرورت تھی۔ اے نادانوں! اور دلوں کے اندھو! قرآن کامل توحید لایا۔ قرآن نے عقل اور نقل کو ملا کر دکھلایا۔ قرآن نے توحید کو کمال تک پہنچایا۔ قرآن نے توحید اور صفات باری پر دلائل قائم کئے۔ اور خداتعالیٰ کی ہستی کا ثبوت عقلی نقلی دلائل سے دیا۔ اور کشفی طور پر بھی دلائل قائم کئے۔ اور وہ مذہب جو پہلے قصہ کہانی کے رنگ میں چلا آتا تھا اس کو علمی رنگ میں دکھلایا۔ اور ہر ایک عقیدہ کو حکمت کا