میںؔ صرف قرآن نے ہی دکھلایا ہے۔ شریعت کے بڑے حصے دو ہیں۔ حقّ اللہ اور حقّ العباد۔ یہ دونوں حصے صرف قرآن شریف نے ہی پورے کئے ہیں۔ قرآن کا یہ منصب تھا کہ تا وحشیوں کو انسان بناوے۔ اور انسان سے بااخلاق انسان بناوے اور بااخلاق انسان سے باخدا انسان بنائے۔ سو اس منصب کو اُس نے ایسے طور سے پورا کیا کہ جس کے مقابل پر توریت ایک گونگے کی طرح ہے۔
اور منجملہ قرآن کی ضرورتوں کے ایک یہ امر بھی تھا کہ جو اختلاف حضرت مسیح کی نسبت یہود اور نصاریٰ میں واقع تھا اسکو دور کرے۔ سو قرآن شریف نے ان سب جھگڑوں کا فیصلہ کیا۔ جیسا کہ قرآن شریف کی یہ آیت 3 ۱ الخ اسی جھگڑے کے فیصلہ کیلئے ہے کیونکہ یہودی لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ نصاریٰ کا نبی یعنی مسیح صلیب پر کھینچا گیا۔ اس لئے موافق حکم توریت کے وہ *** ہوا اور اس کا رفع نہیں ہوا۔ اور یہ دلیل اس کے کاذب ہونے کی ہے‘‘۔ اور عیسائیوں کا یہ خیال تھا کہ *** تو ہوا مگر ہمارے لئے اور بعد اس کے *** جاتی رہی اور رفع ہوگیا اور خدا نے اپنے دہنے ہاتھ اس کو بٹھالیا۔ اب اس آیت نے یہ فیصلہ کیا کہ رفع بلاتوقف ہوا نہ یہودیوں کے زعم پر دائمی *** ہوئی جو ہمیشہ کے لئے رفع الی اللہ سے مانع ہے۔ اور نہ نصاریٰ کے زعم پر چند روز *** رہی اور پھر رفع الی اللہ ہوا بلکہ وفات کے ساتھ ہی رفع الی اللہ ہوگیا۔ اور ان ہی آیات میں خداتعالیٰ نے یہ بھی سمجھا دیا کہ یہ رفع توریت کے احکام کے مخالف نہیں کیونکہ توریت کا حکم عدم رفع اور *** اس حالت میں ہے کہ جب کوئی صلیب پر مارا جائے۔ مگر صرف صلیب کے چھونے یا صلیب پر کچھ ایسی تکلیف اٹھانے سے جو موت کی حد تک نہیں پہنچتی *** لازم نہیں آتی اور نہ عدم رفع لازم آتا ہے۔ کیونکہ توریت کا منشاء یہ ہے کہ صلیب خداتعالیٰ کی طرف سے