لم یکن الذین کفروا من اھل الکتاب والمشرکین منفکین حتی تاتیہم البینۃ و کان کیدھم عظیمًا۔ یعنی ممکن نہ تھا کہ نصاریٰ اور مخالف مسلمان اور ہندو اپنے انکاروں سے باز آجاتے جب تک ان کو کھلا کھلا نشان نہ ملتا۔ اور ان کا مکر بہت بڑا تھا۔ پھر بعد اس کے اسی صفحہ میں فرمایا کہ اگر خدا ایسا نہ کرتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔ یہ اس بات کی طرف اشاؔ رہ ہے کہ پادریوں نے آتھم کی پیشگوئی کو بباعث اپنے اخفاء کے لوگوں پر مشتبہ کر دیا تھا پس اگر لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی تھی جس کی شوخیوں نے ثابت کر دیا تھا کہ وہ رجوع کرنے والا نہیں ایسی ہی مخفی رہ جاتی تو تمام حق خاک میں مل جاتا۔ اور نادان لوگو ں کے خیالات سخت ناپاک ہو جاتے اور جاہل قریب قریب دہریوں کے بن جاتے۔ سو آسمانوں اور زمینوں کے مالک نے چاہا کہ لیکھرام حق کے اظہار کا فدیہ ہو اور سچے دین کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے بطور بلیدان کے ہوجائے۔ سو وہی ہوا جو خدا نے چاہا۔ ایک انسان کے مارے جانے کی ہمدردی بجائے خود ہے۔ مگر یہ بات بہت دلوں کو تاریکی سے نکالنے والی ہے کہ خدا نے جلسہ مذاہب کے نشان کے بعد یہ ایک عظیم الشان نشان دکھلایا۔ چاہئے کہ ہر یک روح اس ذات کو سجدہ کرے جس نے ایک بندہ کی جان لیکر ہزاروں مردوں کو زندہ کرنے کی بنیاد ڈالی۔ اور پھر اسی پیشگوئی کی طرف براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۲۲ میں یہ الہام اشارہ فرماتا ہے کہ ’’بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔ پاک محمد مصطفی نبیوں کا سردار۔ ربّ الافواج اس طرف توجہ کرے گا اس نشان کا مدعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے مو نہہ کی باتیں ہیں‘‘۔ پس جس عظیم الشان نشان کا اس الہام میں وعدہ ہے وہ یہی ہے جس سے مطابق الہام ھٰذا کے اعلاء کلمہ اسلام ہوا اور صفحہ ۵۵۷ براہین احمدیہ میں اسی نشان کا ذکر ہے جس کا پہلا فقرہ یہ ہے کہ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ یعنی ایک جلالی نشان ظاہر کروں گا۔ اور سرمہ چشم آریہ میں ایک کشف ہے جس کو گیارہ برس ہوگئے۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ خدا نے ایک خون کا نشان دکھلایا وہ خون کپڑوں پر پڑا جو اب تک موجود ہے یہ خون کیا تھا وہی لیکھرام کا خون تھا۔ خدا کے آگے جھک جاؤ کہ وہ برتر اور بے نیاز ہے!!!