ہی ؔ ہے اور کتابوں کے مقرر کردہ نشان اس دعویٰ پر گواہی نہیں دیتے تو یہ دعویٰ باطل ہے۔ کیا انجیل نے سچے اور واقعی ایمان کی کوئی نشانی نہیں لکھی؟ کیا اس نے ان نشانوں کو فوق العادۃ کے رنگ میں بیان نہیں کیا؟ پس اگر انجیلوں میں سچے ایمانداروں کے نشان لکھے ہیں۔ تو ہر ایک عیسائی پاک زندگی کے مدعی کو انجیل کے نشانوں کے موافق آزمانا چاہئے۔ ایک بڑے بزرگ پادری کا ایک غریب سے غریب مسلمان کے ساتھ روحانی روشنی اور قبولیت میں مقابلہ کر کے دیکھ لو۔ پھر اگر اس پادری میں اس غریب مسلمان کے مقابل پر کچھ بھی آسمانی روشنی کا حصہ پایا جائے تو ہم ہر ایک سزا کے مستحق ہیں۔ اسی وجہ سے میں کئی دفعہ اس بارے میں عیسائیوں کے مقابل پر اشتہار دے چکا ہوں۔ اور میں سچ سچ کہتا ہوں اور میرا خدا گواہ ہے کہ مجھ پر ثابت ہوگیا ہے کہ حقیقی ایمان اور واقعی پاک زندگی جو آسمانی روشنی سے حاصل ہو بجز اسلام کے کسی طرح مل نہیں سکتی۔ یہ پاک زندگی جو ہم کو ملی ہے یہ صرف ہمارے منہ کی لاف و گزاف نہیں اس پر آسمانی گواہیاں ہیں۔ کوئی پاک زندگی بجز آسمانی گواہی کے ثابت نہیں ہو سکتی۔ اور کسی کے چھپے ہوئے نفاق اور بے ایمانی پر ہم اطلاع نہیں پا سکتے۔ ہاں جب آسمانی گواہی والے پاک دل لوگ کسی قوم میں پائے جائیں تو باقی قوم کے لوگ بظاہر پاک زندگی نما بھی پاک زندگی والے سمجھے جائیں گے۔ کیونکہ قوم ایک وجود کے حکم میں ہے اور ایک ہی نمونہ سے ثابت ہو سکتا ہے کہ اس قوم کو آسمانی پاک زندگی مل سکتی ہے * ۔ اسی بنا پر میں نے عیسائیوں کیلئے ایک فیصلہ کرنیوالا اشتہار دیا تھا۔ پس اگر ان کو حق کی طلب ہوتی تو وہ اس طرف متوجہ ہوتے۔ اور میں اب بھی کہتا ہوں کہ عیسائیوں کو بھی ایمان اور پاک زندگی کا دعویٰ ہے اور مسلمانوں کو بھی۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ ان دونوں گروہوں میں سے خدا کے نزدیک کس کا ایمان مقبول اور کس کی واقعی پاک زندگی ہے۔ *نوٹ۔ اس جگہ کوئی گذشتہ قصہ پیش کرنا لغو ہے موجودہ واقعات کو بالمقابل دکھلانا چاہئے۔ منہ