ملا ؔ مت ہے۔ غرض قسّام مطلق نے ہر ایک قوم کو فطرتی قویٰ کا برابر حصہ دیا ہے اور جیسا کہ ظاہری ناک اور آنکھ اور منہ اور ہاتھ اور پیر وغیرہ تمام قوموں کے انسانوں کو عطا ہوئے ہیں۔ ایسا ہی باطنی قوتیں بھی سب کو عطا ہوئی ہیں۔ اور ہر ایک قوم میں بلحاظ اعتدال یا افراط اور تفریط کے اچھے آدمی بھی ہیں اور برے بھی۔ لیکن مذہب کے اثر کے رو سے کسی قوم کا اچھا بن جانا یا کسی مذہب کو کسی قوم کی شائستگی کا اصل موجب قرار دینا اس وقت ثابت ہوگا کہ اس مذہب کے بعض کامل پیروؤں میں اس قسم کے روحانی کمال پائے جائیں جو دوسرے مذہب میں ان کی نظیر نہ مل سکے۔ سو میں زور سے کہتا ہوں کہ یہ خاصہ اسلام میں ہے۔ اسلام نے ہزاروں لوگوں کو اس درجہ کی پاک زندگی تک پہنچایا ہے جس میں کہہ سکتے ہیں کہ گویا خدا کی روح ان کے اندرسکونت رکھتی ہے قبولیت کی روشنی ان کے اندرایسی پیدا ہوگئی ہے کہ گویا وہ خدا کی تجلیات کے مظہر ہیں۔ یہ لوگ ہر ایک صدی میں ہوتے رہے ہیں اور ان کی پاک زندگی بے ثبوت نہیں اور نرا اپنے منہ کا دعویٰ نہیں بلکہ خدا گواہی دیتا رہا ہے کہ ان کی پاک زندگی ہے۔ یاد رہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اعلیٰ درجہ کی پاک زندگی کی یہ علامت بیان فرمائی ہے کہ ایسے شخص سے خوارق ظاہر ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ ایسے شخصوں کی دعا سنتا ہے اور ان سے ہمکلام ہوتا ہے اور پیش از وقت ان کو غیب کی خبریں بتلاتا ہے اور ان کی تائید کرتا ہے۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ ہزاروں اسلام میں ایسے ہوتے آئے ہیں۔ چنانچہ اس زمانہ میں یہ نمونہ دکھلانے کیلئے یہ عاجز موجود ہے۔ مگر عیسائیوں میں یہ لوگ کہاں اور کس ملک میں رہتے ہیں جو انجیل کی قراردادہ نشانیوں کے موافق اپنا حقیقی ایمان اور پاک زندگی ثابت کر سکتے ہیں؟ ہر ایک چیز اپنی نشانیوں سے پہچانی جاتی ہے جیسا کہ ہر ایک درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے اور اگر پاک زندگی کا صرف دعویٰ