ذکر کرنے سے پہلے پیشگوئی کے ظاہر کرنے کے لئے دو مختلف فقروں کو ذکر فرمایا اول یہ کہ ینصرک اللّٰہ من عندہ دوم یہ کہ ینصرک رجال نوحی الیھم من السماء اس تقسیم کی یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے پادریوں کو شرمندہ کرنے کیلئے فرمایا کہ اگر تم نے ہمارے ایک نشان کو مخفی کرنا چاہا تو کیا حرج ہے ہم اس کے عوض میں دو نشان ظاہر کریں گے۔ ایک وہ نشان جو بلاواسطہ ہمارے ہاتھ سے ہوگا اور دوسرا وہ نشان جو ایسے لوگوں کے ہاتھ سے ظہور میں آ جائے گا جن کے دلوں میں ہم ڈال دیں گے کہ تم ایسا کرو تب فتح عظیم ہوگی۔ اب انصاف سے دیکھو اور ایمان سے نظر کرو کہ یہ دونوں نشان یعنی نشان جلسہ مذاہب اور نشان موت لیکھرام ۱۷ برس بعد شائع ہونے براہین احمدیہ کے ظہور میں آئے ہیں کیا یہ انسان کی طاقت ہو سکتی ہے؟ یہ بھی ظاہر ہے کہ جلسہ مذاہب سے پہلے جو اشتہار الہامی شائع کئے گئے تھے ان میں صاف طور پر لکھا گیا تھا کہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ مضمون تمام مضامین پر غالب رہے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ دیکھو اخبار سول ملٹری گزٹ۔ اخبار ابزرور۔ مخبردکن۔ پیسہ اخبار۔ سراج الاخبار۔ مشیر ہند۔ وزیر ہند سیالکوٹ صادق الاخبار بہاولپور۔ پس یہ خدا کا بلاواسطہ فعل تھا کہ ہریک دل کی خواہش کے مخالف ان سے اقرار کرایا کہ وہی مضمون غالب رہا مگر دوسرے نشان میں قاتل کے دل میں قتل کی خواہش ڈال دی اور اس طرح پر دونوں نشان بلاواسطہ اور بالواسطہ خلق اللہ کو دکھلا کر پادریوں اور اسلامی مولویوں اور ہندوؤں کے مکر کو ایک دم میں پاش پاش کر دیا۔ اور ممکن نہ تھا کہ وہ اپنی شرارتوں سے باز آجاتے جب تک خدا ایسے کھلے کھلے نشان ظاہر نہ کرتا۔ اسی کی طرف وہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۰۶ میں اشارہ فرماتا ہے اور کہتا ہے عورت کے کسی وارث کے ہاتھ سے قتل کیا گیا۔ کیسی ذلت کی موت ہے اور اگر اسی کا نام شہادت ہے تو گویا یوں کہنا چاہیے کہ وہ کسی عورت کی نگاہ کی چھری سے شہید ہو چکا تھا آخر وہی چھری قہری صورت پر اس کو لگ گئی۔ اگر قتل کا سبب یہی ہے تو لیکھرام کی پاک زندگی کا خوب ثبوت ہے۔ منہ