صحیحؔ ہے کہ یسوع کی *** قربانی پہلے گناہ کیلئے ہے تو مثلاً داؤد نبی نعوذ باللہ ہمیشہ کے جہنم کے لائق ٹھہرے گا۔ کیونکہ اس نے اوریا کی جورو سے بقول عیسائیوں کے زناکر کے پھر اس عورت کو بغیر خداکی اجازت کے تمام عمر اپنے گھر میں رکھا۔ اور وہی مریم کے سلسلہ اُمّہات میں یسوع کی مقدس نانی ہے۔ علاوہ اس کے داؤد نے سو تک بیوی بھی کی۔ جن کا کرنا بموجب اقرار عیسائیوں کے اس کو روا نہیں تھا۔ پس یہ گناہ اس کا پہلا گناہ نہ رہا بلکہ بار بار واقع ہوتا رہا اور ہر ایک دن نئے سرے اس کا اعادہ ہوتا تھا۔ پھر جبکہ *** قربانی گناہ سے روک نہیں سکتی تو بیشک عام عیسائیوں سے بھی گناہ ہوتے ہوں گے جیسا کہ اب بھی ہو رہے ہیں۔ پس بموجب اصول پولوس کے دوسرا گناہ ان کا قابل معافی نہیں اور ہمیشہ کا جہنم اس کی سزا ہے۔ اس صورت میں ایک بھی عیسائی دائمی جہنم سے نجات پانے والا ثابت نہیں ہوتا۔ مثلاً میاں سراج الدین دور نہ جائیں اپنے حالات ہی دیکھیں کہ پہلے انہوں نے مریم کے صاحبزادے کو خدا کا بیٹا مان کر *** قربانی کا بپٹسمہ پایا۔ اور پھر قادیان میں آکر نئے سرے مسلمان ہوئے اور اقرار کیا کہ میں نے بپٹسمہ لینے میں جلدی کی تھی اور نماز پڑھتے رہے اور بارہا میرے روبروئے اقرار کیا کہ کفّارہ کی لغویّت کی حقیقت بخوبی میرے پر کھل گئی ہے اور میں اس کو باطل جانتا ہوں اور پھر قادیان سے واپس جاکر پادریوں کے دام میں پھنس گئے اور عیسائیت کو اختیار کیا۔ اب میاں سراج الدین کو خود سوچنا چاہئے کہ جب اوّل وہ بپٹسمہ پاکر عیسائی دین سے پھر گئے تھے اور قول اور فعل سے انہوں نے اس کے برخلاف کیا تو عیسائی اصول کے رو سے یہ ایک بڑا گناہ تھا جو دوسری دفعہ ان سے وقوع میں آیا۔ پس پولوس کے قول کے مطابق یہ گناہ ان کا بخشا نہیں جائیگا کیونکہ اس کے لئے دوسری صلیب کی ضرورت ہے۔
اور اگر یہ کہو کہ پولوس نے غلطی کھائی ہے یا جھوٹ بولا ہے اور اصل بات