ایساؔ ہی یسوع کی تین نانیاں زنا کی بُری حرکت میں مبتلا ہوئیں۔ پس ظاہر ہے کہ اگر یسوع کی *** قربانی پر ایمان لانا اندرونی پاکیزگی پیدا کرنے کے لئے کچھ اثر رکھتا تو اس کی نانیاں ضرور اس سے فائدہ اٹھاتیں اور ایسے قابل شرم گناہوں میں مبتلا نہ ہوتیں۔ ایسا ہی یسوع کے حواریوں سے بھی ایمان لانے کے بعد قابل شرم گناہ سرزد ہوئے۔ یہودا اسکریوطی نے تیس روپیہ پر یسوع کو بیچا اور پطرس نے سامنے کھڑے ہوکر تین مرتبہ یسوع پر *** بھیجی اور باقی سب بھاگ گئے۔ اور ظاہر ہے کہ نبی پر *** بھیجنا سخت گناہ ہے۔ اور یورپ میں جو آجکل شراب خواری اور زناکاری کا طوفان برپا ہے اس کے لکھنے کی حاجت نہیں۔ ہم اپنے کسی پہلے پرچہ میں بعض بزرگ پادری صاحبوں کی زناکاری کا ذکر یورپ کے اخبارات کے حوالہ سے کر چکے ہیں۔ ان تمام واقعات سے بکمال صفائی ثابت ہوتا ہے کہ یہ *** قربانی گناہ سے روک نہیں سکی۔ اب دوسرا شقّ یہ ہے کہ اگر گناہ رک نہیں سکتے تو کیا اس *** قربانی سے ہمیشہ گناہ بخشے جاتے ہیں۔ گویا یہ ایک ایسا نسخہ ہے کہ ایک طرف ایک بدمعاش ناحق کا خون کر کے یا چوری کر کے یا جھوٹی گواہی سے کسی کے مال یا جان یا آبرو کو نقصان پہنچا کر اور یا کسی کے مال کو غبن کے طور پر دبا کر اور پھر اس *** قربانی پر ایمان لاکر خدا کے بندوں کے حقوق کو ہضم کر سکتا ہے۔ اور ایسا ہی زناکاری کی ناپاک حالت میں ہمیشہ رہ کر صرف *** قربانی کا اقرار کر کے خداتعالیٰ کے قہری مواخذہ سے بچ سکتا ہے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ ایسا ہرگز نہیں بلکہ ارتکاب جرائم کر کے پھر اس *** قربانی کی پناہ میں جانا بدمعاشی کا طریق ہے۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ پولوس کے دل کو بھی یہ دھڑکا شروع ہوگیا تھا کہ یہ اصول صحیح نہیں ہے اسی لئے وہ کہتا ہے کہ ’’یسوع کی قربانی پہلے گناہ کے لئے ہے اور یسوع دوبارہ مصلوب نہیں ہو سکتا‘‘۔ لیکن اس قول سے وہ بڑی مشکلات میں پھنس گیا ہے۔ کیونکہ اگر یہی