یہیؔ ہے کہ *** قربانی پر ایمان لانے کے بعد کوئی گناہ گناہ نہیں رہتا چوری کرو زنا کرو خون ناحق کرو۔ جھوٹ بولو۔ امانت میں خیانت کرو۔ غرض کچھ کرو کسی گناہ کا مواخذہ نہیں تو ایسا مذہب ایک ناپاکی پھیلانے والا مذہب ہوگا۔ اور وقت کی گورنمنٹ کو مناسب ہوگا کہ ایسے عقائد کے پابندوں کی ضمانتیں لیوے۔ اور اگر پھر اس خیال کو دوبارہ پیش کرو کہ *** قربانی پر ایمان لانے والا سچی پاکیزگی حاصل کرتا ہے اور گناہ سے پاک ہوجاتا ہے تو ہم اس کا جواب پہلے دے چکے ہیں کہ یہ بات ہرگز صحیح نہیں ہے اور ہم ابھی داؤد نبی کا گناہ۔ یسوع کی نانیوں کے گناہ اور حواریوں کے گناہ اور حضرات پادری صاحبوں کے گناہ لکھ چکے ہیں۔ اور اس بات کو تمام اہل تجربہ جانتے ہیں کہ یورپ ان دنوں میں بدکاریوں میں اول درجہ پر ہے۔ اگر فرض کے طور پر کسی کی پاک زندگی کی نظیر دیجائے تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حقیقت میں اس کی زندگی پاک ہے۔ بہتیرے بدمعاش حرام خور زانی دیّوث شراب خوار خدا کے منکر بظاہر پاک زندگی دکھلا سکتے ہیں اور اندر سے ان قبروں کی طرح ہوتے ہیں جن میں بجز متعفّن مردہ اور اس کی ہڈیوں کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ماسوا اس کے یہ خیال کرنا بھی بے جا ہے کہ کسی قوم کے سارے کے سارے اپنی فطرت کی رو سے نیک یا سب کے سب فطرتاً بدمعاش ہیں بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کے قانون قدرت نے یہ دعویٰ کرنے کا حق ہر ایک قوم کو بخشا ہے کہ جیسے ان میں بعض لوگ فطرتاً بد اخلاق اور بدسرشت اور بداندیش اور بدکردار ہیں ایسا ہی بمقابلہ ان کے بعض دوسرے لوگ فطرتاً دل کے غریب نیک خلق نیک چلن نیک کردار ہیں۔ اس قانون قدرت سے نہ ہندو باہر ہیں نہ پارسی نہ یہودی نہ سکھ نہ بدھ مذہب والے یہاں تک کہ چوہڑے اور چمار بھی اسی قانون میں داخل ہیں۔ اور جیسے جیسے لوگ تہذیب اور شائستگی میں