کےؔ پاک نبی اس کو تازہ کرتے آئے تھے۔ یہودی اب تک زندہ موجود ہیں اور ان کے فاضل اور عالم بھی موجود ہیں اور ان کی کتابیں بھی موجود ہیں۔ اگر کسی کو شک ہو تو ان سے بالمواجہ دریافت کرلے۔ کیا ایک عقلمند جو درحقیقت سچائی کی تلاش میں ہے وہ اس بات کا محتاج نہیں کہ یہودیوں کی بھی اس میں گواہی لے۔ کیا یہودی وہ پہلے گواہ نہیں ہیں جو صدہا برسوں سے توریت کی تعلیم کو حفظ کرتے چلے آئے ہیں؟ ایک عاجز انسان کو خدا بنانا نہ اس پر پہلی تعلیموں کی گواہی نہ ان تعلیموں کے وارثوں کی گواہی نہ پچھلی تعلیم کی گواہی نہ عقل کی گواہی۔ اور اس شخص کو خدا کا بھی کہنا اور پھر شیطان کا بھی۔ کیا ان گندی اور نامعقول باتوں کو ماننا پاک فطرت لوگوں کا کام ہے؟!! پھرجب اس عقیدہ کو اس پہلو سے دیکھا جائے کہ باوجودیکہ توریت کی متوارث اور قدیم تعلیم کی مخالفت کی گئی اور ایک کا گناہ دوسرے پر ڈالا گیا اور ایک راستباز کے دل کو *** اور خدا سے دور اور مہجور اور شیطان کا ہم خیال ٹھہرایا گیا۔ پھر ان سب خرابیوں کے ساتھ اس *** قربانی کو قبول کرنے والوں کے لئے فائدہ کیا ہوا۔ کیا وہ گناہ سے باز آگئے یا ان کے گناہ بخشے گئے تو اور بھی اس عقیدہ کی لغویت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ گناہ سے باز آنا اور سچی پاکیزگی حاصل کرنا تو ببداہت خلاف واقعہ ہے۔ کیونکہ بموجب عقیدہ عیسائیوں کے حضرت داؤد علیہ السلام بھی کفارہ یسوع پر ایمان لائے تھے۔ لیکن بقول ان کے ایمان لانے کے بعد نعوذ باللہ حضرت داؤد نے ایک بے گناہ کو قتل کیا اور اس کی جورو سے زنا کیا اور نفسانی کاموں میں خلافت کے خزانہ کا مال خرچ کیا۔ اور سو۱۰۰ تک جورو کی اور اخیر عمر تک اپنے ان گناہوں کو تازہ کرتے رہے اور ہر روز کمال گستاخی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کیا۔ پس اگر یسوع کی *** قربانی گناہ سے روک سکتی تو بقول ان کے داؤد اس قدر گناہ میں نہ ڈوبتا۔