یہیؔ بات سچ ہوتی کہ خداتعالیٰ نے یسوع مسیح کو اپنا بیٹا قرار دے کر اور غیروں کی *** اس پر ڈال کر پھر اس *** قربانی کو لوگوں کی نجات کیلئے ذریعہ ٹھہرایا تھا اور یہی تعلیم یہودیوں کو ملی تھی تو کیا سبب تھا کہ یہودیوں نے آج تک اس تعلیم کو پوشیدہ رکھا اور بڑے اصرار سے اس کے دشمن رہے اور یہ اعتراض اور بھی قوت پاتا ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہودیوں کی تعلیم کو تازہ کرنے کے لئے ساتھ ساتھ نبی بھی چلے آئے تھے۔ اور حضرت موسیٰ نے کئی لاکھ انسانوں کے سامنے توریت کی تعلیم کو بیان کیا تھا۔ پھر کیونکر ممکن تھا کہ یہودی لوگ ایسی تعلیم کو جو متواتر نبیوں سے ہوتی آئی بھلا دیتے۔ حالانکہ ان کو حکم تھا کہ خدا کے احکام اور وصایا کو اپنی چوکھٹوں اور دروازوں اور آستینوں پر لکھیں اور بچوں کو سکھائیں اور خود حفظ کریں۔ اب کیا یہ بات سمجھ آ سکتی ہے یا کسی کا پاک کانشنس یہ گواہی دے سکتا ہے کہ باوجود اتنی نگہداشت کے سامانوں کے تمام فرقے یہود کے توریت کی اس پیاری تعلیم کو بھول گئے جس پر ان کی نجات کا مدار تھا۔ یہودی نہ آج سے بلکہ قدیم سے یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ توریت میں وہی باتیں ذریعۂ نجات بتلائی گئی ہیں جو قرآن میں ذریعۂ نجات بتلائی گئی ہیں۔ چنانچہ قرآن شریف کے وقت میں بھی انہوں نے یہی گواہی دی اور اب بھی یہی گواہی دیتے ہیں۔ اور اسی مضمون کی ان کی چٹھیاں اور نیز کتابیں میرے پاس پہنچی ہیں۔ اگر یہودیوں کو نجات کیلئے اس *** قربانی کی تعلیم دی جاتی تو کچھ سبب معلوم نہیں ہوتا کہ کیوں وہ اس تعلیم کو پوشیدہ کرتے۔ ہاں یہ ممکن تھا کہ وہ یسوع مسیح کو خدا کا بیٹا کر کے نہ مانتے اور اس کی صلیب کو سچے بیٹے کی صلیب تصور نہ کرتے۔ اور یہ کہتے کہ وہ حقیقی بیٹا جس کی قربانی سے دنیا کو نجات ملے گی یہ نہیں ہے بلکہ آئندہ کسی زمانہ میں ظاہر ہوگا مگر یہ تو کسی طرح ممکن نہ تھا کہ تمام فرقے یہود کے سرے سے ایسی تعلیم سے انکار کر دیتے جو ان کی کتابوں میں موجود تھی۔ اور خدا