میںؔ جو یہودیوں کے ہاتھ میں ہیں اس *** قربانی کا ذکر کیا جاتا۔ کیونکہ کوئی عقلمند اس بات کو باور نہیں کر سکتا کہ خدا کا وہ ازلی ابدی قانون جو انسانوں کی نجات کیلئے اس نے مقرر کر رکھا ہے ہمیشہ بدلتا رہے اور توریت کے زمانہ میں کوئی اور ہو اور انجیل کے زمانہ میں کوئی اور۔ قرآن کے زمانہ میں کوئی اور ہو۔ اور دوسرے نبی جو دنیا کے اور حصوں میں آئے ان کے لئے کوئی اور ہو۔ اب ہم جب تحقیق اور تفتیش کی نظر سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ توریت اور یہودیوں کی تمام کتابوں میں اس *** قربانی کی تعلیم نہیں ہے۔ چنانچہ ہم نے ان دنوں میں بڑے بڑے یہودی فاضلوں کی طرف خط لکھے اور ان کو خداتعالیٰ کی قسم دے کر پوچھاکہ انسانوں کی نجات کیلئے توریت اور دوسری کتابوں میں تمہیں کیا تعلیم دی گئی ہے؟ کیا یہ تعلیم دی گئی ہے کہ خدا کے بیٹے کے کفارہ اور اسکی قربانی پر ایمان لاؤ؟ یا کوئی اور تعلیم ہے؟ تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ نجات کے بارے میں توریت کی تعلیم بالکل قرآن کے مطابق ہے۔ یعنی خدا کی طرف سچا رجوع کرنا اور گناہوں کی معافی چاہنا اور جذبات نفسانیہ سے دور ہو کر خدا کی رضا کیلئے نیک اعمال بجالانا اور اسکے حدود اور قوانین اور احکام اور وصیتوں کو بڑے زور اور سختی کشی کے ساتھ بجالانا یہی ذریعہ نجات ہے جو بار بار توریت میں ذکر کیا گیا جس پر ہمیشہ خدا کے مقدّس نبی پابندی کراتے چلے آئے ہیں اور جس کے چھوڑنے پر عذاب بھی نازل ہوتے رہے ہیں۔ اور ان فاضل یہودیوں نے صرف یہی نہیں کیا کہ اپنی مفصل چٹھیات سے مجھ کو جواب دیا بلکہ انہوں نے اپنے محقق فاضلوں کی نادر اور بے مثل کتابیں جو اس بارے میں لکھی گئی تھیں میرے پاس بھیج دیں جو اب تک موجود ہیں اور چٹھیات بھی موجود ہیں۔ جو شخص دیکھنا چاہے میں دکھا سکتا ہوں اور ارادہ رکھتا ہوں کہ ایک مفصل کتاب میں وہ سب اسناد درج کردوں۔
اب ایک عقلمند کو نہایت انصاف اور دل کی صفائی کے ساتھ سوچنا چاہئے کہ اگر