اگرؔ نجات اسی طرح حاصل ہو سکتی ہے کہ اول یسوع کو شیطان اور خدا سے برگشتہ اور خدا سے بیزار ٹھہرایا جائے تو *** ہے ایسی نجات پر!!! اس سے بہتر تھا کہ عیسائی اپنے لئے دوزخ قبول کرلیتے لیکن خدا کے ایک مقرب کو شیطان کا لقب نہ دیتے۔ افسوس کہ ان لوگوں نے کیسی بیہودہ اور ناپاک باتوں پر بھروسہ کر رکھا ہے۔ ایک طرف تو خدا کا بیٹا اور خدا سے نکلا ہوا۔ اور خدا سے ملا ہوا فرض کرتے ہیں اور دوسری طرف شیطان کا لقب اس کو دیتے ہیں۔ کیونکہ *** شیطان سے مخصوص ہے اور لعین شیطان کا نام ہے اور *** وہ ہوتا ہے جو شیطان سے نکلا اور شیطان سے ملا ہوا اور خود شیطان ہے۔ پس عیسائیوں کے عقیدہ کے رو سے یسوع میں دو۲ قسم کی تثلیث پائی گئی۔ ایک رحمانی اور ایک شیطانی۔ اور نعوذ باللہ یسوع نے شیطان میں ہو کر شیطان کے ساتھ اپنا وجود ملایا۔ اور *** کے ذریعہ سے شیطانی خواص اپنے اندر لئے۔ یعنی یہ کہ خدا کا نافرمان ہوا۔ خدا سے بیزار ہوا۔ خدا کا دشمن ہوا۔ اب میاں سراج الدین آپ انصافاًفرماویں کہ کیا یہ مشن جو مسیح کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کوئی روحانی یا معقولی پاکیزگی اپنے اندر رکھتا ہے؟ کیا دنیا میں اس سے بدتر کوئی اور عقیدہ بھی ہوگا کہ ایک راستباز کو اپنی نجات کے لئے خدا کا دشمن اور خدا کا نافرمان اور شیطان قرار دیا جائے؟ خدا کو جو قادر مطلق اور رحیم و کریم تھا اس *** قربانی کی کیا ضرورت پڑی؟ پھر جب اس اصول کو اس پہلو سے دیکھا جائے کہ کیا اس *** قربانی کی تعلیم یہودیوں کو بھی دی گئی ہے یا نہیں تو اور بھی اس کے کذب کی حقیقت کھلتی ہے کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں انسانوں کی نجات کیلئے صرف یہی ایک ذریعہ تھا کہ اس کا ایک بیٹا ہو اور وہ تمام گنہ گاروں کی *** کو اپنے ذمہ لے لے۔ اور پھر *** قربانی بن کر صلیب پر کھینچا جائے تو یہ امر ضروری تھا کہ یہودیوں کیلئے توریت اور دوسری کتابوں