***ؔ کی لکڑی پر لٹکایا گیا۔ اسی لئے ہم پہلے اشارہ کر آئے ہیں کہ یسوع مسیح کی قربانی *** قربانی ہے۔ گناہ سے *** آئی اور *** سے صلیب ہوئی۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ کیا *** کا مفہوم کسی راستباز کی طرف منسوب کر سکتے ہیں؟ سو واضح ہو کہ عیسائیوں نے یہ بڑی غلطی کی ہے کہ یسوع کی نسبت *** کا اطلاق جائز رکھا۔ گو وہ تین دن تک ہی ہو یا اس سے بھی کم۔ کیونکہ *** ایک ایسا مفہوم ہے جو شخص ملعون کے دل سے تعلق رکھتا ہے۔ اور کسی شخص کو اس وقت *** کہا جاتا ہے جبکہ اس کا دل خدا سے بالکل برگشتہ اور اس کا دشمن ہو جائے۔ اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے۔ اور اس بات کو کون نہیں جانتا کہ *** قرب کے مقام سے ردّ کرنے کو کہتے ہیں۔ اور یہ لفظ اس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جس کا دل خدا کی محبت اور اطاعت سے دور جا پڑے اور درحقیقت وہ خدا کا دشمن ہو جائے۔ لفظ *** کے یہی معنے ہیں جس پر تمام اہل لغت نے اتفاق کیا ہے۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ اگر درحقیقت یسوع مسیح پر *** پڑ گئی تھی تو اس سے لازم آتا ہے کہ درحقیقت وہ مورد غضب الٰہی ہوگیا تھا۔ اور خدا کی معرفت اور اطاعت اور محبت اس کے دل سے جاتی رہی تھی اور خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہوگیا تھا اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہوگیا تھا جیسا کہ *** کا مفہوم ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ *** کے دنوں میں درحقیقت کافر اور خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن اور شیطان کا حصّہ اپنے اندر رکھتا تھا۔ پس یسوع کی نسبت ایسا اعتقاد کرنا گویا نعوذ باللہ اس کو شیطان کا بھائی بنانا ہے۔ اور میرے خیال میں ایک راستباز نبی کی نسبت ایسی بے باکی کوئی خدا ترس نہیں کرے گا بجز اس شخص کے جو خبیث طبع اور ناپاک طبع ہو۔ پس جبکہ یہ بات باطل ہوئی کہ حقیقی طور پر یسوع مسیح کا دل مورد *** ہوگیا تھا۔ پس ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ایسی *** قربانی بھی باطل اور نادان لوگوں کا اپنا منصوبہ ہے۔