اپنےؔ تئیں بچاتا اور دوسروں کے آرام کیلئے معقول طور پر عقلمندوں کی طرح تکلیفیں اٹھاتا تو اسکی ذات سے دنیا کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ مثلاً اگر ایک غریب آدمی گھر کا محتاج ہے اور معمار لگانے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس صورت میں اگر ایک معمار اس پر رحم کر کے اس کا گھر بنانے میں مشغول ہو جائے اور بغیر لینے اُجرت کے چند روز سخت مشقت اٹھا کر اس کا گھر بنا دیوے تو بیشک یہ معمار تعریف کے قابل ہوگا۔ اور بیشک اس نے ایک مسکین پر احسان بھی کیا ہے جس کا گھر بنا دیا۔ لیکن اگر وہ اس شخص پر رحم کر کے اپنے سر پر پتھر مارلے تو اس غریب کو اس سے کیا فائدہ پہنچے گا۔ افسوس دنیا میں بہت تھوڑے لوگ ہیں جو نیکی اور رحم کرنے کے معقول طریقوں پر چلتے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے کہ یسوع نے اس خیال سے کہ میرے مرنے سے لوگ نجات پاجائیں گے درحقیقت خودکشی کی ہے تو یسوع کی حالت نہایت ہی لائق رحم ہے۔ اور یہ واقعہ پیش کرنے کے لائق نہیں بلکہ چھپانے کے لائق ہے۔ اوراگر ہم عیسائیوں کے اس اصول کو *** کے مفہوم کے رو سے جانچیں جو مسیح کی نسبت تجویز کی گئی ہے تو نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس اصول کو قائم کر کے عیسائیوں نے یسوع مسیح کی وہ بے ادبی کی ہے جو دنیا میں کسی قوم نے اپنے رسول یا نبی کی نہیں کی ہوگی۔ کیونکہ یسوع کا *** ہو جانا گو وہ تین دن کے لئے ہی سہی عیسائیوں کے عقیدہ میں داخل ہے۔ اور اگر یسوع کو *** نہ بنایا جائے تو مسیحی عقیدہ کے رو سے کفارہ اور قربانی وغیرہ سب باطل ہو جاتے ہیں۔ گویا اس تمام عقیدہ کا شہتیر *** ہی ہے۔ اور یہ باتیں جو یسوع نوع انسان کی محبت کیلئے دنیا میں بھیجا گیا اور نوع انسان کی خاطر اس نے اپنے تئیں قربان کیا۔ یہ تمام کارروائی عیسائیوں کے خیال میں اس شرط سے مفید ہے کہ جب یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یسوع اول دنیا کے گناہوں کے باعث ملعون ہوا اور