چو ؔ نکہ لڑائی کا موقع تو جاتا رہا ہے۔ اب بموجب حالت زمانہ ہم لوگ ہر طرح خدمت کے لئے حاضر ہیں۔ اور ہم ایسا کیوں نہ کریں جبکہ اس گورنمنٹ کا ہم پر خاص احسان ہے۔ وہ یہ کہ سکھّوں کے عروج کے زمانہ میں سکھوں نے اس ریاست کو بہت دق کیا تھا اور اگر وقت پر جنرل اختر لونی صاحب ابر رحمت کی طرح تشریف نہ لے آتے تو یہ ریاست کبھی کی اس خاندان سے نکل کر سکھوں کے ہاتھ میں ہوتی۔ پس ہمارا خاندان تو ہر طرح گورنمنٹ کا مرہون منّت ہے۔ اور اب یہ سلسلہ بہ سبب حضور اور زیادہ مستحکم ہو گیا۔ اور جو احسانات گورنمنٹ کے ہماری جماعت پر ہیں وہ قندمکرر کا لطف دینے لگے تو مجھ کو ضروری ہوا کہ اپنے ہمسروں سے بڑھ کر کچھ کیا جائے۔
اوّل ۔ چراغانہ قریب کی مسجد پر اور اپنے رہائشی مکان پر بہت زور سے کیا گیا۔ بلکہ ایک مکان بیرون شہر جو ایک گاؤں سروانی کوٹ نام میں میرا ہے اُس پر بھی کیا گیا کل مکانوں پر اول سفیدی کی گئی۔ اور مختلف طرز پر چراغ نصب کئے گئے اور ایک دیوار پر چراغوں میں یہ عبارت لکھی گئی۔
God save our Empress
یعنی خدا تعالیٰ ہماری قیصرہ کو سلامت رکھے۔ قریبًا تمام شہر سے بڑھ کر ہمارے ہاں روشنی کا اہتمام تھا۔ مگر عین وقت پر ہوا کے ہونے سے ۲۲؍کو وہ روشنی نہ ہو سکی۔ اس لئے تمام شہر میں ۲۳؍ کو روشنی ہوئی مگر اُس روز بھی ہوا کے سبب اونچی جگہ روشنی نہ ہو سکی۔
دوم ۔ تین ٹرائفل آرچ۔ ایک برسر کوچہ اور دو اپنے مکان کے سامنے بنائے گئے اور ان پر مندرجہ ذیل عبارات سنہری لکھ کر لگائی گئیں۔ اوّل برسر کوچہ ’’جشن ڈائمنڈ جوبلی مبارک باد‘‘ ۔ دوم اپنے رہائشی مکان کے دروازہ پر انگریزی میںWelCome یعنی خوش آمدید لکھا تھا۔ سوم دروازہ کے مقابل تیسری محراب پر لکھا تھا۔ ’’قیصرہ ہند کی عمردراز ۔ اور سروانی کوٹ میں بھی ایک ٹرائفل آرچ بنائی گئی تھی۔
سوم ۔ ۲۲؍ جون کو شام کے چھ بجے اپنی جماعت کے اصحاب کو جمع کر کے