خداؔ وند تعالیٰ سے حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کے بقائے دولت اور درازی عمر اور یہ کہ جس طرح حضور ممدوحہ نے ہم پر احسان کیا ہے خداوند تعالیٰ بھی حضور ممدوحہ پر احسان کرے اور الذین آمنوا میں داخل کرے یعنی اسلام کے آفتاب سے وہ بھی فیضیاب ہوں دُعا کی گئی۔ چہارم ۔ میں نے ایک نوٹس اپنی جماعت کے لوگوں کو دے دیا تھا کہ سب صاحب جو کم سے کم مقدرت رکھتے ہوں وہ بھی سو چراغ سے کم نہ جلائیں اور جن کے پاس اتنا خرچ کرنے کو نہ ہو وہ مجھ سے لے لیں۔ چنانچہ پانچ اصحاب کو میں نے خرچ چراغانہ دیا اور باقیوں نے خود چراغانہ کیا۔ پنجم۔ میرے متعلق جو سروانی کوٹ میں معافیدار تھے اُن کو بھی میں نے حکم دیا کہ چراغانہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے بھی کیا اور یہ ایسا امر ہے کہ ریاست کے اور دیہات میں غالبًا ایسا نہیں ہوا۔ ششم ۔ ۲۳؍ جون کو اس خوشی میں آتش بازی چھوڑی گئی۔ ہفتم ۔ ۲۲؍ جون کی شام کو معزز احباب کی دعوت کی گئی۔ ہشتم ۔ ۲۳؍ کو مساکین کو غلّہ اور نقد خیرات کیا گیا۔ نہم۔ ایک یادگار کے قائم کرنے کی بھی تجویز ہے۔ جب اس کی بابت فیصلہ ہو گا وہ بھی عرض کروں گا۔ راقم محمد علی خان }مالیر کوٹلہ ۲۵؍ جون ۱۸۹۷ء نوٹ۔ ہم نے اپنی طرف سے سب احباب کے نام کوشش سے درج کرا دیئے ہیں۔ اب اگر ایک دو نام رہ گئے ہوں تو سہو بشریت ہے۔